تذکرۃ المہدی — Page 2
تذكرة المهدي 2 اور جدی مسکن سند ہالہ ہے اس موقعہ کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہئے۔مبادا کہ اور کاذب مدعی اور وارث کھڑے ہو جا ئیں میں نے اس کے جواب میں لکھا کہ چونکہ ہمارا کہیں آنا جانا اور نشست و برخاست حضرت اقدس امام موعود علیہ الصلوة والسلام " کے زیر فرمان اور اجازت پر ہے میں ان سے اجازت حاصل کر کے انشاء اللہ روانہ ہو جاؤں گا اور خدا تعالی آپ کو شفا بخشے۔اور مجھکو سند ہالہ گئے ہوئے چودہ پندرہ برس ہو گئے اس واسطے میری اور ان کی غیروں کی سی حالت ہے۔اور آپ وہاں ہمیشہ آتے جاتے رہتے ہیں میں اور کام تو سب کرلوں گا لیکن سند ہالہ کا کام آپ سے ہی ہو گا میں نے اس مقام پر نہ جانے کا یوں عذر کیا کہ ہمارے جدی اور نزدیکی بھائیوں میں سے ایک کی شادی تھی اس میں شریک ہونے کے لئے خط آیا سو میں اور میرے بڑے بھائی شاہ خلیل الرحمن صاحب اور سید علی حسن متوفی اور میاں جی شیخ عبد الرحمن متوفی اور دو چار اور شخص سر سادہ سے شادی میں شریک ہونے کے لئے چلے چونکہ سر سادہ سے یہ مقام سند ہالہ آٹھ نو کوس ہے۔اور جمنا بیچ میں پڑتی ہے۔برسات اور گرمیوں میں تو کشتی یعنی ناؤ لگتی ہے اور آٹھ نو کوس کا سفر گیارہ بارہ کوس کا سفر خطرناک ہو جاتا ہے کیونکہ برسات میں تین چار کوس میں جمنا کا پانی پھیل جاتا ہے اور بیسیوں اور سینکڑوں گاؤں ڈوب جاتے ہیں اور ہزاروں لاکھوں بیگہ زراعت کا نقصان ہو جاتا ہے اور ان گنت چار پائے اہلی و صحرائی بہہ جاتے ہیں اور آدمی بھی بہت مرجاتے ہیں۔غرضیکہ ہم صبح سے چل کر عصر کے وقت سندہالہ پہنچے ابھی نوٹ : حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نام نامی پر علیہ الصلوۃ والسلام لکھا جاتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جب حضرت اقدس نے قیام لدھیانہ میں اپنے مسیح موعود ہونے کا اشتہار دیا جس کی سرخی یہ تھی لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَ يُحْيِي مَنْ حَى عَن بنت تو میں بمقام کوٹ پولی علاقہ جیپور تھا میں سب کام چھوڑ کر لدھیانہ حاضر ہوا تو مخالفت کا بہت زور تھا۔مولومی محمود الحسن خان صاحب احمد می بھی جو دہلی کے قرب وجوار کے رہنے والے اور پٹیالہ میں درس ہیں آئے ہوئے تھے۔عرض کیا کہ حضور اب ہم ہر جگہ اعلان کریں جو میٹی علیہ السلام آنے والے تھے آگئے اور علیہ السلام بھی ساتھ میں لکھیں حضور نے فرمایا کہ بیشک بھی کہو اور علیہ السلام بلکہ صلوۃ بھی کہو کیونکہ اللہ تعالی نے ہمارے نام کے ساتھ صلوۃ کا لفظ فرمایا ہے۔