تذکرۃ المہدی — Page 33
تذكرة المحمدي 33 حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قول کو بھی مانتے ہیں لیکن اس میں یہ بات ہے کہ یہ قول حضرت عمر ا کا ایک بچہ کی نسبت ہے اور بچہ کے لئے اور حکم ہیں اور بڑے کے لئے اور حکم جیسے بعض وقت بچہ نگا بھی پھر لیتا ہے اور اس کا پائجامہ ایسا بنایا جاتا ہے کہ اس کے پاجامہ میں رومال نہیں ہوتا تاکہ بول و براز کے لئے آسانی رہے اور بچہ ماں کے ساتھ اور بہن کے ساتھ بھی سو رہتا ہے لیکن بڑے اور بالغ ہو کر تو یہ جائز نہیں اور میں نے جو حدیث پڑھی ہے وہ بڑے آدمیوں اور بالغوں کے واسطے ہے اور اس حدیث میں لوگوں کے لئے منافق ہونے کی پیشگوئی ہے اور یہودیت اور خروج عن الاسلام کا نشان ہے اتنے میں میرے بڑے بھائی شاہ خلیل الرحمان صاحب بھی سر سادہ سے آگئے۔انہوں نے اور دو ایک اور شخصوں نے میرے کہنے کی تصدیق کی مولوی صاحب کھسیانے ہو کر بولے کہ اب میں بخاری لاتا ہوں میں نے کہا مولوی صاحب چاہے جو کتاب لاؤ سر منڈانا و داڑھی منڈانا کبھی بھی جائز نہ نکلے گا یہ منافق کا نشان ہے جو منافق کا نشان ہو تا ہے وہ ایک مومن راستباز کا نشان کیوں ہونے لگا ہے۔جب یہ حدیث شریف جس میں بال سرد ریش منڈانے والوں کے لئے دعید ہے دکھلائی اور سنائی تو وہ حیران رہ گئے اور ہمارے سر سادہ میں بھی اس کا چرچا ہو گیا۔سرسادہ میں بعض آدی سرمنڈے مولوی رشید احمد گنگوہی کا نفاق گنگوہی کے مرید تھے اور بعض معتقد اور بعض درمیانی۔تو انہوں نے کہا کہ مولوی رشید احمد گنگوہی بھی تو سرمنڈاتے ہیں کیا وہ اس حدیث سے واقف نہیں ہیں میں نے کہا کہ وہ بھی منافق ہے۔منافق کو اپنا نفاق کب سوجھتا ہے وہ تو ہمیشہ ایماندار ہونے کا ہی دعویٰ رکھتا ہے اس سے ناراض ہوئے میں نے کہا کہ تم ناراض کیوں ہوتے ہو ہاتھ کنگن کو آرسی کیا تم اس طرح جانچو کہ مولوی صاحب نے ایک اشتہار حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام اور