تذکرۃ المہدی — Page 29
تذكرة المهدي 29 دیتا یا کانوں سے سنائی نہیں دیتا یا پیروں سے چلا نہیں جاتا یا ہاتھ کام نہیں دے سکتے۔پس یہ ولی ہونا تو درکنار اس کو ایک ادنی مومن بھی نہیں کہہ سکتے ان کو تو یوں کہو کہ وہ اندھا ہے وہ بیمار ہے ہو اس کو ہسپتال میں لے جاؤ اور علاج کراؤ یا میرے پاس لاؤ کہ میں اس کا علاج کروں تم جانتے ہو کہ میں طبیب ہوں یہ بات سن کر وہ ہننے لگے اور بعض نے برا مانا اور کچھ نہ کہا۔بھر میں شہر سہارنپور میں پھرتا پھرتا محلہ چوتھا مباحثہ ایک حکیم حکیم سے شاه ولایت میں پہنچا یہ محلہ وسط شہر میں واقع ہے اس محلہ میں تمام شرفا اور اکثر امراء کے مکانات ہیں سنت جماعت زیادہ شیعہ کم لیکن یہ سب انصاری ہیں اور اس محلہ میں حکیم اور مولوی بہت رہتے ہیں۔وکیل اور مختار اور اہل روزگار بھی ہیں اور زمیندار جن کی ملک میں کئی کئی گاؤں ہیں۔اور اسی محلہ میں ہمارے نانا کا بھی مکان ہے اور اکثر ہمارے رشتہ دار ہیں۔اس محلہ میں کئی مسجدیں ہیں لیکن ایک مسجد میں حضرت شاہ سید محمد اسحاق کا مزار ہے جو شاہ ولایت مشہور ہے اور ہماری نانی انہیں کی اولاد میں سے تھیں۔اور حضرت مولانا احمد علی صاحب محدث سہارنپوری جو مولانا شاہ اسحاق صاحب کے شاگرد تھے اسی محلہ میں رہتے تھے پھر وہ محلہ قاضی میں رہنے لگے یہ بھی ہمارے نانا ہیں وہاں دس بارہ آدمی بیٹھے تھے ان میں ایک حکیم مگر ایسے حکیم کہ جن پر یہ مثل صادق آتی ہے کہ ایک حکیم کا گورستان میں گذر ہوا تو کپڑے سے منہ چھپالیا لوگوں نے پوچھا کہ حکیم صاحب آپ نے منہ ڈھک لیا۔حکیم صاحب نے فرمایا مجھ کو ان مردوں سے شرم آتی ہے کہ میرے ہی یہ لوگ مارے ہوئے ہیں اور یہ صاحب مولویت میں بھی دم مارتے تھے۔اور ان کا سر منڈا اور گھٹا ہوا تھا۔وہ میری صورت دیکھ کر بہت بگڑے اور کہنے لگے کہ کدھر سے آئے عیسائی حضرت اقدس علیہ السلام بھی اس قسم کا ذکر یعنی یہی مثال بدعتی فقراء مصنوعی کے حق میں اکثر فرمایا کرتے