تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 28 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 28

28 تذكرة المهدي محمدیہ میں ہوئے اور ان سے کرامتیں ظاہر ہو ئیں سب معجزات آنحضرت کی بے عزتی ہوئی افسوس ہے کہ یہ لوگ نور سے ظلمت کی طرف جاتے ہیں اچھی چیز کو بری سمجھتے ہیں بات یہ ہے کہ جب کوئی بیمار ہوتا ہے تو اس کے منہ کا مزہ بگڑ جاتا ہے میٹھی اور مزہ دار شے کڑوی اور کسیلی معلوم ہوتی ہے اور وہ بیمار ہر ایک سے لڑتا ہے کہ یہ چیز اچھی نہیں پکائی خراب کر دی بد مزہ ہو گئی حالا نکہ وہ لوگ اوپر والے کیسی ہی سنوار کر پکائیں یہ لوگ بیمار ہیں اور اپنے آپ کو تندرست سمجھتے ہیں۔ان کے ہاتھ میں ایک قشر (چھلکا) ہے نہ مغز یہ مغز کو پھینکتے اور قشر پر راضی ہوتے ہیں۔مجھے ایک لطیفہ اس وقت یاد آگیا اور وہ یہ ہے کہ میں ہانسی میں تھا جو دو چار شخص مجھے ملنے کے لئے آئے اور ان میں کچھ مجھ سے واقف تھے اور وہ ایک شخص کے مرید تھے میں نے کہا خیریت ہے کیسے آئے وہ کہنے لگے کہ ہمارے پیرو مرشد آئے ہیں آپ بھی ان سے ملیں بڑے بزرگ ہیں۔خدارسیدہ ہیں ولی اللہ ہیں بس ولی اللہ ایسے ہی ہوتے ہیں میں نے کہا کہ اچھا تم کو مبارک ہو ہمیں تو ملنے کی ضرورت نہیں رہی کیونکہ جب امام زمان آگئے تو پھر دوسرے سے ملنا کیا۔اور تم جو ان کے مرید ہوئے ہو تم نے ان میں ایسی کیا بات دیکھی کہ وہ ولی ہیں خدا رسیدہ ہیں کہنے لگے اور تو ہم کو سمجھ نہیں اتنی بات ضرور دیکھی ہے کہ ایسے سیدھے سادھے بزرگ ہیں کہ جس قسم کا کھانا ان کے آگے رکھ دو کھالیتے ہیں پھیکا ہو نمکت بد مزہ ہو کسیلا ہو کڑوا ہو کبھی بھی اپنی زبان سے نہیں کہتے میں نے کہا اس میں خدار سیدہ ہونے اور ولی ہونے کی کیا بات ہے۔بلکہ اس سے تو معلوم ہوا کہ وہ مجنون یا دیوانہ ہے۔یا وہ بیمار ہے جب اس کو کھانے کا مزہ ہی نہیں ہوتا تو مریض ہے اور سخت مریض ہے ان کا علاج کراؤ تاکہ وہ تندرست ہو جاوے۔یہ تو ایسی مثال ہے کہ جس کو ادنی آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ کوئی یوں کہے کہ ہمارے پیرو مرشد ایسے ولی ہیں جن کو آنکھوں سے دکھائی نہیں معلوم