تذکرۃ المہدی — Page 300
تذكرة المحمدى 300 کسی کام میں مشغول ہیں جب وہ اپنے وقت پر تشریف لائیں گے دیکھ لینا یا مل لینا جب اس نے معلوم کیا کہ یہ نہیں بلائیں گے تو خود ہی بیدھڑک آواز دی کہ مرزا جی کہاں ہو باہر آؤ۔حضرت اقدس علیہ السلام برہنہ سمر اسکی آواز سن کر باہر تشریف لائے اور اس کی صورت دیکھ کر تبسم فرمایا اور پوچھا سردار صاحب اچھے ہو راضی ہو خوش ہو بہت روز میں ملے اس نے کہا ہاں میں خوش ہوں بڑھاپے نے ستارکھا ہے چلنا پھرنا دشوار ہے اور پھر کھیت کیا ر کا کام ہے اس سے فرصت نہیں ملتی ہے مرزا جی تمہیں وہ باتیں پہلی بھی یاد ہیں کہ تمہارے والد تم کو کہا کرتے تھے کہ میرا بیٹا غلام احمد متیر ہے (مسجد کا ملا اور ہندوستان میں بہت نماز پڑھنے والے کو مسجد کا مینڈھا حقارت سے کہا کرتے ہیں) نہ نوکری کرتا ہے نہ کماتا ہے چل تجھے کسی گاؤں کی مسجد میں مقرر کرا دوں دس من دانے (اناج) تو خوردنوش کے لئے کما لیا کرنا۔دیکھو میں تمہیں بلا کر آپ کے والد کے حکم سے لایا کرتا تھا اور آپ کو افسوس کی نگاہ سے دیکھا کرتے تھے۔اور سب کام چھوڑ چھاڑ کر چلے آتے آج وہ زندہ ہوتے یہ موج یہ لہر بھر دیکھتے کہ یہ وہی ہے جس پر ہم افسوس کیا کرتے تھے کیسا بادشاہ بنا بیٹھا ہے اور سینکڑوں آدمی دور دور سے آتے ہیں اور تمہارے در کے غلام اور سلامی یہ خدا کی قدرت کے نشان ہیں ہر طرح کے سامان ہیں جو لوگوں کی نظروں میں حقیر تھا آج وہ معزز اور عظیم الشان ہے حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا ہاں ہمیں سب باتیں یاد ہیں یہ سب کچھ خدا کا فعل ہے ہمارا اس میں کوئی دخل نہیں ہے اور اس کی باتوں کو سن کر ہنستے رہے اور فرمایا ٹھہرو تمہارے کھانے کا انتظام کرتا ہوں۔آپ اندر مکان میں تشریف لے گئے اور میں اس کو اپنے قیام کی جگہ لے گیا اور آرام سے بٹھا کر کہا کہ یہ باتیں تو تمہاری میں نے سن لیں کچھ اور باتیں حضرت اقدس علیہ السلام کی سناؤ تم پرانے آدمی ہو۔اس نے کہا میں کیا کیا باتیں مرزا جی کی سناؤں ایک دفتر لکھنے کو چاہئے میں ان