تذکرۃ المہدی — Page 220
تذكرة المهدي 220 اور تمہارے بھائی اور خود تمہارے مرید دہلی میں ہیں کسی سے یا کسی کی معرفت کتابیں تو لاؤ میں نے عرض کیا کہ میں حضور کے ساتھ ہوں کتابوں کا ملنا محال ہے یہ عصر کا وقت تھا۔فرمایا اللہ کے نام پر جاؤ تو سی بیش از یں نیست - لوگ گالیاں دیں گے ماریں گے سودین کے کام میں مار کھانا گالیاں سننا تو سنت انبیاء و اولیاء ہے۔اور جو مار بھی ڈالیں گے تو شہادت پاؤ گے آخر کتنے روز جینا ہے ایک روز مرتا ہے۔فرمایا صحابہ رضی اللہ عنہم کی حالت کو نہیں دیکھتے۔نہ انہوں نے جان کو عزیز رکھا اور نہ مال و دولت سے پیار کیا نہ عزیز و اقارب سے رشتہ رکھا اور نہ گھر بار کی طرف رخ کیا۔صرف اللہ تعالٰی سے رشتہ تعلق رکھا۔نہ اولاد پیاری ہوئی اپنے نبی اپنے پیشوا محمد مصطفی اللہ کا وہ ساتھ دیا اور وہ حق اطاعت و فرمانبرداری بجالائے کہ جو حق تھا اور آجکل تو گورنمنٹ برطانیہ کی وہ پر شوکت وسطوت سلطنت ہے کہ کسی چیز کا خطرہ نہیں دین کو دنیا پر مقدم رکھنا چاہئے یہ زندگی کیا چیز ہے کچھ بھی چیز نہیں۔اکمل صاحب نے خوب فرمایا خدا ان کو جزائے خیر دے۔ایک وہ دن تھے کہ جان قربان کرنی پڑتی تھی ابتو دین حق میں ایسا امتحاں کچھ بھی نہیں زندگی وہ زندگی ہے جو ہمیشہ اور ابدی زندگی ہے اس کا فکر کرنا چاہئے یہ زندگی خواب کی مثال ہے اور وہ دوسری زندگی واقعی اور حقیقی زندگی ہے جو ابدی ہے اور اس زندگی کی مثال بیداری کی مثال ہے اس عالم سے مرنا کیا ہے بس یہ ہے کہ آنکھ کھل گئی دیکھو ایک شخص ہوتا ہے اور خواب میں اپنے محبوب یا دینار و درہم کو دیکھ رہا ہے یہ دیکھنا کچھ حقیقت نہیں رکھتا حقیقت وہ ہے کہ آنکھ کھل گئی اور واقعی دنیار دور ہم کو بھی پالیا اور معشوق سے بغلگیر ہو گیا۔اس عالم میں انسان خواب کی سی حقیقت رکھتا ہے اور وہ عالم عالم بیداری ہے کہ جو کچھ غیب میں بتلایا گیا تھا اور غیب پر ایمان لایا تھا وہ اب مشاہدہ میں آگیا ان دونوں