تذکرۃ المہدی — Page 217
تذكرة المهدى 217 صاحب کی صداقت کے لئے کافی ہے کہ مجھ جیسا بزرگ ان کو مانتا ہے کچھ لوگ ہمارے مریدوں میں سے تھے انہوں نے دوڑ کر مصافحہ کیا اور کہا کہ حضرت آپ مرزا صاحب کے پاس جاتے ہیں ان پہ تو کفر کا فتویٰ لگ رہا ہے اور لوگ قتل کے درپے ہو رہے ہیں میں نے کہا کہ میں بھی قتل ہونے کے لئے آیا ہوں اور نیز کافر بننے کے لئے۔یاد رکھو جب تک کسی پر متفقہ کفر کا فتویٰ نہیں لگتا وہ مومن بھی نہیں ہو سکتا خبردار تم اس معالمہ میں نہ بولو اور میرے ساتھ چلو حضرت مرزا صاحب کا مکان بتلا دو کہ وہ کہاں ٹھرے ہیں پس دو شخص ایک نصیر الدین اور دوسرا محمد عاشق میرے ساتھ ہوئے اور مجھے کو حضرت اقدس علیہ السلام کے مکان پر یعنی نواب لوہارو کی کوٹھی پر لے گئے منشی ظفر احمد صاحب اور محمد خان صاحب کپور تھلوی موجود تھے انہوں نے مجھے کو دیکھ کر کہا کہ ہم آتے ہیں سو دہ دونوں صاحب نیچے آئے اور اوپر مکان میں لے گئے وہاں دیکھا تو جناب حکیم فضل الدین صاحب بھیروی اور مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنما تشریف رکھتے ہیں۔حکیم صاحب سے یہ نئی ملاقات تھی۔پھر حضرت اقدس علیہ السلام کو خبر ہوئی اس کے بالا خانہ پر مجھے بلوایا۔کچھ لوگ وہاں بھی تھے من جملہ ان کے ایک جناب سید امیر علی شاہ صاحب سیالکوٹی اور غلام قادر صاحب فصیح سیالکوٹی تھے اور ایک اشتہار چھپوانے کی تجویز کرتے تھے خاکسار کو دیکھ کر کھڑے ہو گئے اور مصافحہ کیا فرمایا خوب ہوا جو تم آگئے ہمارا مولوی سید نذیر حسین سے مباحثہ ہے۔لدھیانہ والا مباحثہ جو مولوی محمد حسین صاحب سے ہوا وہ بھی تم نے لکھا تھا اور اب یہ مباحثہ بھی تم لکھنا۔اتنے میں مکان کے نیچے بازار میں بہت لوگ جمع ہو گئے اور عجیب عجیب حیوانوں کی طرح بولیاں بولنے لگے اور بڑھے بڑھے لوگ سفید ڈاڑھی والے صرف ٹوپی سر پر تالیاں بجا بجا کر بکواس کرتے تھے۔اور حضرت اقدس علیہ السلام کو گالیاں دیتے تھے حضرت اقدس علیہ السلام نے سن کر فرمایا کہ دیکھو دہلی والوں پر شہدہ پن ختم ہو گیا ہے سفید ریش ہیں اور پھر تالیاں بجا بجا