تذکرۃ المہدی — Page 196
تذكرة الهدى 196 مولوی صاحب نرے مولوی ہیں کچھ انمو باطنی مس نہیں ہے دوسرے روز پھر وہ آئے تو مولوی صاحب نے ان کو بلایا اور آٹھ آنہ انکو دے دیئے۔بس یہ آٹھ آنے دینے تھے کہ سید صاحب زریر سر فولاد تھمی نرم شود معتقد ہو گئے اور کہنے لگے کہ اب آپ نے مولوی صاحب ہماری شان پہچانی مولوی صاحب نے کہا ہاں ، به صاحب اب معلوم ہوا کہ آپ بھی کچھ ہیں سید صاحب کہنے لگے کہ کچھ کیا بہت کچھ ہیں۔مولوی صاحب نے کہا ہاں میں بھول گیا تھا آپ بہت کچھ ہیں۔اب سید صاحب مولوی صاحب کی تعریف گلی کوچوں میں کرتے پھرتے ہیں کہ مولوی صاحب بڑے صاحب نسبت ہیں۔یہ حال ہے ان لوگوں کی قطبیت اور غوثیت اور مہددیت کا۔رشید احمد گنگوہی کا حال (۸) منجملہ ان مدعیان مجددیت کے ایک مولوی رشید احمد گنگوہی تھے ان کو ان کے مرید مجدد دقت لکھا کرتے تھے اور خاص کر مولوی محمد حسین فقیر بنی دہلوی کا تو یہی عقیدہ تھا مولوی صاحب نے کبھی نہیں کہا کہ مجھ کو مجدد مت لکھو میں مجدد نہیں ہوں گویا ان کی مرضی تھی کہ میں بھی مجدد ہوں مولوی رشید احمد گنگوہی نے بھی کفر میں حد کردی اشتہار دیا کہ علانیہ سب وشتم کرد مرزا مسیلمہ ہے سود عنسی ہے۔کذاب ہے۔مفتری ہے۔وجال ہے نعوذ باللہ منہا۔مولوی صاحب پر ایک تو یہ وبال پڑا۔اور دو سرا و بال یہ پڑا کہ مجدد کہلایا۔اس وبال و نکال کا نتیجہ یہ ہوا کہ بیوی مری بیٹا مرا دو بیٹوں کی بیویاں مریں صرف اکیلا رہ گیا پھر نا بینا ہو گیا اور حدیث جو پڑہایا کرتا تھا وہ پڑھانا جاتا رہا کئی ایک مرید جو اس کے تھے اور بڑے تھے مر گئے اور سارا کارخانہ درہم برہم ہو گیا۔اور مولوی عبد القادر صاحب جو مرید اور خلیفہ تھے وہ حضرت اقدس علیہ السلام کے مرید ہو گئے اس ان کے مولوی گنگوہی کو سخت ہم د غم ہوا۔حضرت اقدس علیہ السلام نے مباہلہ کے لئے بھی بہت مولوی رشید احمد