تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 189 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 189

تذكرة المهدي 189 حصہ اول اور اب کے صوفیوں کی راہ اور طریق جادہ مستقیم سے گر گئی اور انہوں نے نئے نئے طریقے ایجاد کرلئے یہ دو باتیں سن کر میرے دل کو ایک لگاؤ حضرت اقدس علیہ السلام کی طرف ہو گیا۔اور خواہشن ملاقات دل میں پیدا ہوئی کہ ایسے شخص سے ملنا چاہئے جو پہلوں کا حوالہ دیتا ہے اور اپنے آپ کو مجدد کہتا ہے بے شک وہ مجد دان بزرگوں میں سے ہی ہو گا اور چودہویں صدی شروع ہونے والی ہے خدا کی قدرت سے کیا بعید ہے کہ وہ مجدد ہوں اور مجدد کا ہونا ضروری ہے جو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ إِنَّ اللهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مَا نَةٍ سَنَةٍ مَنْ تُجدِ دُلَهَا دِينَهَا یعنی بے شک اللہ تعالٰی اس امت کے لئے ہر ایک صدی کے سر پر ایک مجدد بھیجتا رہے گا جو دین کی تجدید کرتا رہے گا اور اب نکڑوں فرقے نکل آئے علما میں اختلاف صوفیاء میں اختلاف امراء میں حالت خراب غرباء وضعفاء کی عادات خراب چاروں طرف فتنہ برپا ہے اللہ تعالٰی کا بڑا احسان اور فضل ہے جو ہمارے زمانہ میں مجدد ہو اور مجھے زیادہ تر یوں انتظار تھا کہ ہمارے بہنوئی حافظ رونق علی عرف محمد جان ساکن رامپور ضلع سہارنپور نے بھی یہ دعوی کر رکھا تھا کہ اس صدی چار دہم کا میں مجدد ہوں گا اس سے بھی دل کو ایک خوشی تھی کہ ہمارے ہی خاندان میں مجددیت ہوگی اور پھر ایک مولوی امیر علی اجمیری کا بھی دعوئی تھا کہ اس چودھویں صدی کا مجدد میں ہوں گا آخر کار ان مولوی صاحب نے تو چودہویں صدی لگتے ہی توبہ کرلی کہ مجھ کو غلطی لگی میں مجدد نہیں ہوں لیکن حافظ صاحب موصوف کا تو ابتک کہ تمہیں برس چودہویں صدی کے گذر گئے مجددیت کا دعویٰ ہے اور اس تیسویں سال کا تو یقیناً ان کا اعتقاد ہے اور در شخص ان کے معتقد ہیں اور وہ دونوں بھی یہی اعتقاد رکھتے ہیں اور ایک درویش اجمیر میں تھا اس کا بھی دعوی تھا کہ میں چودھویں صدی کا مجدد ہوں۔