تذکرۃ المہدی — Page 188
تذكرة المهدي 188 اس کے بعد یہ کشفی حالت جاتی رہی اور ایک لذت باقی اس نظارہ عجیب کی رہ گئی اور دو تین روز وہ ذوق و شوق رہا کہ بیان سے باہر ہے پھر میں نے یہ کشف شیخ یوسف علی نعمانی مرحوم مذکور الصدر سے جو وہ بھی اس وقت موجود تھا بیان کیا اور شیخ عباس علی صاحب بخشی فوج ریاست جیند اور قاضی غلام نبی صاحب رئیس جیند سے اور شیخ برکات علی جمعدار وغیرہ سے یہ کشف بیان کیا پھر ایک روز مجلس مولود تھی اور میں ہی پڑھنے والا تھا اس وقت بھی یہ کشف دوبارہ ہوا چونکہ کشف میں بھی ایک قسم کی ربودگی ہوتی ہے اور قوائے مدرکہ اس عالم سے ٹوٹ کر دوسرے عالم کی طرف مصروف ہو جاتے ہیں تو لوگوں نے سمجھا کہ یہ ہوتا ہے کیونکہ بیان بند ہوا اور زبان میں جو ایک قسم کی تیزی اور سرعت ہوتی ہے اور کبھی لڑکھڑا جاتی ہے پس ایک صاحب جو اس وقت شاید ناظم تھے مجلس میں حاضر تھے کہنے لگے کہ حضرت میاں صاحب یہ وقت سونے کا ہے یا پڑھنے کا ہے جب انہوں نے مکر رسہ کرر یہ کہا تو میری کشفی حالت بند ہوئی اور میں نے کہا کہ میں سوتا نہیں ہوں بلکہ ایک نظارہ عجیب دیکھ رہا ہوں۔وہ جو میں نے دیکھا تھا پھر بیان کیا اسوقت دو تین سو آدمی تھے اس نظارہ کشفی کے دو سال کے بعد میں لدھیانہ گیا کسی شخص نے کہا کہ کوئی گاؤں قادیان ہے وہاں ایک مرزا غلام احمد بڑے نیک اور ولی اللہ سنے جاتے ہیں میں نے کہا کہ ہاں ہونگے ولیوں سے تو کوئی زمانہ خالی نہیں ہو تا خدا جانے دنیا میں سینکڑوں ولی اللہ ہونگے پھر دو تین روز کے بعد بھی یہی ذکر ہماری مجلس میں ہوا میں نے ان کو کہا کہ تم نے کیوں کر جاتا کہ ولی اللہ ہیں اور انہوں نے کہا کہ ان کی تعریف دو چار شخصوں کی زبانی معلوم ہوئی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ہم مجدد اس صدی کے ہیں اور فرماتے ہیں کہ پچھلے زمانہ کے اولیاء اللہ جیسے سید عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ اور بایزید بسطامی اور سید معین الدین حسن اجمیری اور شیخ اکبر محی الدین ابن العربی رحمتہ اللہ علیم وغیرہ تو واقعی طریقہ رسول اللہ ﷺ پر تھے اور وہ سب اہل اللہ اور برگزیدہ الہی تھے