تذکرۃ المہدی — Page 158
تذكرة المهدي 158 حصہ اول تھے اس وقت روٹی کا دباؤ دیا مگر مولوی نظام الدین خدا کے فضل سے ایسا بو دا اور ضعیف الایمان تھوڑا ہی تھا کہ روٹی کے احسان میں دب جاتا ہاتھ جوڑ کر ظرافت سے مولوی نظام الدین کہنے لگے کہ مولوی صاحب میں نے قرآن شریف چھوڑا روٹی مت چھوڑ داؤ اس بات کے کہنے سے محمد حسین شرمندہ ہوا اور کہا جابیٹھ جا مرزا کے پاس مت جانا حضرت اقدس علیہ السلام مولوی نظام الدین مرحوم کی اس ظرافت اور لطیفہ کو اکثر بیان کرتے تھے اور حضرت اقدس کا ہاتھ جوڑ کر مولوی نظام الدین کی نقل بیان کرنا ایسا پیارا معلوم ہو تا تھا کہ دل کو لبھا لیتا تھا۔اور جب مولوی نظام الدین حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوتے تو آپ ضرور ان سے یہ بیان کرواتے کہ مولوی صاحب کیوں کر یہ معاملہ گزرا اور مولوی نظام الدین اسی طرح سے ہاتھ جوڑ کر بیان کرتے اور ہنستے اور حضرت اقدس علیہ السلام بھی ہنستے بالآخر مولوی نظام الدین وہاں سے چلے اور حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں آکر اور شرمندہ سے ہو کر رہ گئے حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا مولوی صاحب ہیں آیت انیس آیت دس پانچ دو چار ایک آیت لائے مولوی نظام الدین صاحب مرحوم خاموش دو چار بار کے دریافت کرنے سے رد کر عرض کیا کہ حضرت وہاں تو یہ معاملہ گزرا میری روٹی ہی بند کر دی اب تو جد ہر قرآن شریف ادھر میں پھر مولوی صاحب نے بیعت کر لی ان کا بیعت کرنا تھا اور مولویوں میں ایک شور مچا تھا۔عباس علی کہنے لگے کہ سچ تو یہ ہے کہ اور مولویوں کے پاس تو حیات مسیح کی کوئی دلیل نہیں اور حضرت مرزا صاحب کے پاس اپنے دعوی کی کوئی دلیل نہیں ہے میں نے کہا کہ عباس علی تم تو بہت روز سے حضرت اقدس کی صحبت میں ہو اور مجھ سے بھی پہلے کے ہو تم کو اتنی بدظنی کیوں ہے اس روز سے کچھ بد ظنی کا مادہ عباس علی میں پیدا ہونے لگا عباس علی کو کیمیا کی بھی دھت تھی اور مسوسی کا بھی شوق تھا ایک روز نواب صاحب کی کوٹھی پر صبح ہی صبح عباس علی آئے اور کہنے