تذکرۃ المہدی — Page 157
تذكرة المهدى 157 مجھے میں آیتیں قرآن شریف سے نکال کر دو مولوی محمد حسین بولے کہ حدیثیں نہیں پیش کیں کہا کہ حدیثوں کا تو ذکر ہی نہیں مقدم قرآن شریف ہے مولوی محمد حسین نے کھڑے ہو کر اور گھبرا کر دوپٹہ یعنی عمامہ سر سے پھینک دیا اور کہا کہ تو مرزا کو ہرا کے نہیں آیا ہمیں ہرا آیا اور ہمیں شرمندہ کیا میں مدت سے مرزا کو حدیث کی طرف لا رہا ہوں اور وہ قرآن شریف کی طرف مجھے کھینچتا ہے قرآن شریف میں اگر کوئی آیت مسیح کی زندگی میں ہوتی تو ہم کبھی کی پیش کر دیتے ہم تو حدیثوں پر زور دے رہے ہیں قرآن شریف سے ہم سرسبز نہیں ہو سکتے اور قرآن شریف مرزا کے دعوے کو سر سبز کرتا ہے تب " تو مولوی نظام الدین کی آنکھیں کھل گئیں اور کہا کہ جب قرآن شریف تمہارے ساتھ نہیں ہے تو اتنا دعومی تم نے کیوں کیا تھا اور کیوں میں آیتوں کے دینے کا مجھ سے وعدہ کیا تھا اب میں کیا منہ لیکے مرزا کے پاس جاؤں گا اگر قرآن شریف تمہارے ساتھ نہیں۔تمہارا ساتھ نہیں دیتا اور مرزا کے ساتھ ہے اور مرزا کا ساتھ دیتا ہے تو میں بھی مرزا کے ساتھ ہوں تمہارے ساتھ نہیں یہ دنیا کا معاملہ نہیں ہے جو شرم کرنی چاہئے یہ دین کا معاملہ ہے جدھر قرآن شریف ادھر میں اس پر مولوی محمد حسین نے کہا کہ مولوی صاحب یہ مولوی نظام الدین تو کم عقل آدمی ہے اس کو ابو ہریرہ والی آیت نکال کر دکھا دو۔مولوی نظام الدین نے کہا کہ میں تو خالص اللہ تعالیٰ کی آیت لوں گا ابو ہریرہ کی آیت نہیں لینے کا دونوں مولوی بولے ارے بیوقوف آیت تو اللہ تعالیٰ ہی کی ہے لیکن ابو ہریرہ نے نقل کی ہے اب مولوی نظام الدین وہاں سے چلنے لگے۔۔۔۔مولوی محمد حسین نے جب دیکھا کہ مولوی نظام الدین ہاتھ سے گیا اور تو کوئی بات نہ سوجھی کہنے لگا کہ مولوی محمد حسن صاحب تم اس کی روٹی بند کردو آئندہ اس کو روٹی مت دینا بات یہ ہے کہ مولوی نظام الدین ہمیشہ کھانا مولوی محمد حسن صاحب کے ہاں کھایا کرتے ام اللہ تعالی جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مولوی محمد حسین نے یہ باتیں کیں اس میں ذرا بھی جھوٹ نہیں ہے ) سراج الحق)