تذکرۃ المہدی — Page 12
تذكرة المهدي 12 نے عرض کیا کہ جس وقت حضور کے قدم مبارک وغیرہ دبانے کا موقعہ ملتا ہے تو یہ حالت ہو جاتی ہے مجھے ہر روز دبانے کی اجازت مل جائے ہنس کر فرمایا اچھا جب تم کو فرصت ہو دبایا کرو۔اور ایک واقعہ اس وقت روحانی برکات اور آپ کی قوت اثر روحانی قدسی کے متعلق سناتا ہوں وہ یہ کہ میں حضرت اقدس امام ہمام علیہ الصلوۃ والسلام کے مکان کے اندر ایک طرف معہ اہل وعیال رہتا تھا۔اور آپ نے وہ جگہ بتلا دی تھی اور اس سے اوپر کے چوبارہ میں آپ رہتے تھے دو ماه بعد سردی کا موسم شروع ہو گیا آپ عصر کے وقت اچانک میری جائے نشست میں رونق افروز ہوئے۔اور پہلے ہی السلام علیکم فرمایا میں نے جواب وعلیکم السلام عرض کیا۔فرمایا خیریت ہے اور کوئی تکلیف تو نہیں ہے اگر کوئی تکلیف ہو تو کہہ دیتا اگر نہ کہو گے تو تم تکلیف اٹھاؤ گے میں نے عرض کیا کہ جناب کی توجہ اور غریب نوازی سے کوئی بھی تکلیف نہیں ہے۔اور حضرت اقدس علیہ السلام کا یہ دستور تھا کہ جب کوئی مہمان آتا تو دریافت فرماتے کہ کسی بات یا کسی شے کی تکلیف نہ اٹھانا اور بے تکلف کہ دینا زبانی موقع نہ ملے تو رقعہ تحریر کرلینا اور اگر تم نہیں کہو گے تو تم کو آپ تکلیف اٹھانی پڑے گی ہم تو بڑے بے تکلف ہیں پھر خاکسار سے فرمایا آج سے ہم بھی تمہاری ہمسائیگی میں آگئے ہیں چونکہ اب سردی کا موسم شروع ہو گیا ہے اوپر کے مکان سے اس نیچے کے مکان میں آگئے ہیں اور ہماری تمہاری چارپائی برابر برابر رہے گی صرف ایک دیوار بیچ میں ہے میں نے عرض کیا کہ حضور کی نوازش اور مہربانی ہے پھر فرمایا کہ اب بتلاؤ کتنے روز تمہارے ہاں بچہ پیدا ہونے کے ہیں میں نے عرض کیا کہ حضور نو ماہ پورے ہو کر دو روز زیادہ ہو گئے فرمایا جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو قمری مہینوں کے حساب ا سے ہوتا ہے اور نو مہینے سے جو دس دن او پر چلے جائیں یا جتنے روز زیادہ ہوں تو اس میں حکمت یہ ہے کہ مہینہ قمری کبھی ۲۹ دن کا اور کبھی ۳۰ دن کا ہوتا ہے تو جو