تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 45 of 862

تذکار مہدی — Page 45

تذکار مهدی ) 45 روایات سید نا محمود ملازمت کرنا چاہتے ہیں اس سے اُن کے دل پر بہت صدمہ ہے آپ ہمیں بتائیں ، آپ کا ارادہ کیا ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ بات سن کر فرمایا بڑے مرزا صاحب خواہ مخواہ فکر کرتے ہیں میں نے جس کا نوکر ہونا تھا اس کا نوکر ہو چکا ہوں۔ہم نے آکر بڑے مرزا صاحب سے کہہ دیا کہ وہ تو یہ کہتے ہیں کہ مجھے جس کا نوکر ہونا تھا ہو چکا اس پر آپ کے دادا صاحب نے کہا۔اگر وہ یہ کہتا ہے تو ٹھیک کہتا ہے۔مقدمات میں پیش ہونا ( الفضل 31 دسمبر 1933 ء جلد 21 نمبر 78 صفحہ 3 | حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے والد مرحوم بہت مدبر اور لائق آدمی تھے مگر دنیا دارانہ رنگ رکھتے تھے جب آپ جوان تھے تو آپ کے والد صاحب مرحوم کو ہمیشہ آپ کے متعلق یہ فکر رہتی تھی کہ یہ لڑکا سارا دن مسجد میں بیٹھا رہتا ہے اور کتا بیں پڑھتارہتا ہے یہ بڑا ہو کر کیا کرے گا اور کس طرح اپنی روزی کما سکے گا ؟ آپ کے والد صاحب مرحوم آپ کو کئی کاموں کی انجام دہی کے لئے بھیجتے مگر آپ چھوڑ کر چلے آتے یہاں تک کہ زمین کے مقدمات کے بارہ میں ان کو آپ کے خلاف شکایت رہتی تھی کہ وقت پر نہیں پہنچتے۔ایک دفعہ آپ کسی مقدمہ کی پیروی کے لئے گئے تو عین پیشی کے وقت آپ نے نماز شروع کر دی۔جب آپ نماز ختم کر چکے تو کسی نے آ کر کہا آپ کا مقدمہ تو آپ کی غیر حاضری کی وجہ سے خارج ہو گیا ہے آپ نے فرمایا الْحَمْدُ لِلَّهِ اِس سے بھی جان چھوٹی۔جب آپ گھر پہنچے تو والد صاحب مرحوم نے ڈانٹا اور کہا تم اتنا بھی نہیں کر سکتے کہ مقدمہ کی پیشی کے وقت عدالت میں حاضر رہو۔آپ نے فرمایا نماز مقدمہ سے زیادہ ضروری تھی ( گو مقدمہ کے متعلق میں نے سنا ہے کہ بعد میں معلوم ہوا کہ مقدمہ آپ کے حق میں ہی ہو گیا تھا۔) کا ہندو ان کے دو بھائی جو سکھ تھے ان کو آپ کے ساتھ عشق تھا وہ ہمیشہ آپ کے پاس آیا کرتے تھے اور باوجو دسکھ ہونے کے وہ آپ کے بہت زیادہ معتقد تھے آپ کی وفات کے بعد ایک دفعہ میں نماز پڑھا کر اندر جانے لگا تو انہی دونوں بھائیوں میں سے ایک نے مجھے روک لیا اور کہا خدا کے لئے آپ اپنی جماعت کے لوگوں کو روکیں کہ وہ ہم پر ظلم نہ کریں۔میں حیران ہوا کہ ہماری جماعت کے لوگوں نے آپ پر کیا ظلم کیا ہے؟ میں نے اُسے تسلی دی اور کہا کہ اگر