تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 805 of 862

تذکار مہدی — Page 805

تذکار مهدی ) 805 روایات سید نا محمودی تو ایک ایسا کام ہمارے سپرد کر دے گا جو ہماری طاقت سے بالا ہوگا لیکن خود ہماری مدد کے لئے آسمان سے نہیں اُترے گا یقیناً اُترے گا اور ہماری مدد کرے گا اور ہم تجھ سے التجا کرتے ہیں کہ تو ہماری کمزور حالت کو دیکھتے ہوئے اپنے فضلوں کو بڑھاتا جا، اپنی رحمتوں کو بڑھاتا جا، اپنی برکتوں کو بڑھاتا جا یہاں تک کہ ہماری ساری کمزوریوں کو تیرے فضل ڈھانپ لیں اور ہمارے سارے کام تیرے فضل سے اپنی تکمیل کو پہنچ جائیں تا کہ تیرے احسانوں میں سے ایک یہ بھی احسان ہو کہ جو کام تو نے ہمارے سپرد کیا تھا اسے تو نے خود ہی سرانجام دے دیا۔کام تیرا ہو اور نام ہمارا ہو۔آمین یہ تیری شان سے بعید نہیں۔اسلام دنیا پر غالب آکر رہے گا، انوار العلوم جلد 18 صفحہ 518 تا 520) جنگ مقدس میں عیسائیوں کی سازش اور اس کا جواب آتھم کا جن دنوں مباحثہ تھا عیسائی ایک دن شرارت کر کے مسلمانوں اور عیسائیوں کو جوش دلانے اور ہنسی مذاق کی ایک صورت پیدا کرنے کے لئے کچھ اندھے، لولے اور لنگڑے جمع کر کے لے آئے اور انہیں ایک گوشہ میں چھپا کر بٹھا دیا اور تجویز یہ کی کہ ہم مرزا صاحب سے کہیں گے کہ آپ کا دعوی ہے کہ آپ مسیح موعود ہیں اور حضرت مسیح اندھوں کو بینا کیا کرتے تھے لنگڑوں اور لولوں پر ہاتھ پھیرتے اور وہ اچھے ہو جاتے تھے۔اب ہم نے آپ کو تکلیف سے بچا لیا ہے اور یہ کچھ لولے لنگڑے اور اندھے جمع کر کے لے آئے ہیں آپ بھی ان پر ہاتھ پھیریں اور انہیں اچھا کر کے دکھائیں، اگر آپ کے معجزہ سے یہ اچھے ہو جائیں گے تو ہم آپ کو اپنے دعوی میں سچا مان لیں گے۔میں تو اس وقت بچہ تھا۔شاید پانچ یا چھ سال میری عمر ہوگی مگر حضرت خلیفۃ اسیح الاوّل سے اور بعض دوسروں سے بھی جو اس واقعہ کے عینی شاہد تھے میں نے تمام باتیں سنی ہیں۔آپ فرماتے جب ہم نے یہ بات سنی تو ہم سخت گھبرائے اور ہم نے کہا۔بس اب بڑی ہنسی ہوگی۔جواب تو خیر دیا ہی جائے گا۔مگر عوام الناس میں اس کی وجہ سے بڑا جوش پیدا ہو جائے گا لیکن جس وقت انہوں نے اس امر کو پیش کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنا جواب لکھوانا شروع کیا۔تو دیکھنے والے جو اس وقت موجود تھے۔سناتے ہیں کہ عیسائیوں کے لئے سخت مشکل پیش آگئی اور انہوں نے چوری چھپے ان اندھے لوگوں اور لنگڑوں کو ایک ایک کر کے غائب کرنا شروع کر دیا۔یہاں تک کہ ایک بھی ان میں سے باقی نہ رہا۔