تذکار مہدی — Page 804
تذکار مهدی ) 804 روایات سید نا محمود ) ہی دنیا کا خاتمہ ہو جائے تا وہ کہہ سکیں کہ دنیا پر جو آخری جھنڈا لہرایا وہ عیسائیت کا تھا مگر ہمارا خدا اس امر کو برداشت نہیں کر سکتا۔ہمارا خدا یہ پسند نہیں کرتا کہ دنیا پر آخری جھنڈا عیسائیت کا لہرایا جائے دنیا میں آخری جھنڈ امحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گاڑا جائے گا اور یقیناً یہ دنیا تباہ نہیں ہوگی جب تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا ساری دنیا پر اپنی پوری شان کے ساتھ نہیں لہرائے گا۔انہوں نے اپنی کوششوں اور تدبیروں کے ساتھ موت کے ذریعہ کو معلوم کر لیا ہے مگر اسلام کو قائم کرنے والا وہ خدا ہے جس کے ہاتھ میں موت بھی ہے اور حیات بھی ہے۔یہ موت کے ذریعہ کو اپنے ہاتھ میں لے کر یہ سمجھتے ہیں کہ ہم دنیا پر حاکم ہو گئے ہیں حالانکہ اصل حاکم وہ ہے جس کے قبضہ میں موت اور حیات دونوں ہیں۔اگر یہ ساری دنیا کو مار بھی دیں گے تب بھی وہ خدا جس کے قبضہ میں حیات ہے اسی طرح اپنی مخلوق کو دوبارہ زندہ کر دے گا جس طرح آدم کے ذریعہ اُس نے نسل انسانی کو قائم کیا۔بہر حال دنیا پر قیامت کا دن نہیں آ سکتا جب تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا ساری دنیا پر نہیں لہرایا جاتا۔مگر یہ تو خدا کی باتیں ہیں اور خدا اپنی باتوں کا آپ ذمہ دار ہے ہم پر جو فرض عائد ہوتا ہے وہ یہی ہے کہ ہم اپنی زندگیوں اور اپنی جانوں کو خدا کے لیئے قربان کر دیں اور اپنے نفوس کو ہمیشہ اس کی اطاعت کے لئے تیار رکھیں تا کہ اس کا فضل اور اس کی رحمت اور اس کی برکت ہم پر نازل ہو اور ہم اس کے حقیر ہتھیار بن کر دنیا میں عظیم الشان نتیجہ پیدا کرنے کا موجب بن جائیں۔پس ہمارا ذہن اور ہماری ذمہ داری ہمیں اس طرف بلاتی ہے کہ باوجوداس کے وعدوں کے ہم اپنی کمزوریوں اور اپنی بے بسیوں کو دیکھتے ہوئے۔خدا تعالیٰ کے حضور جھک جائیں اور اُسی سے التجا کریں کہ اے ہمارے ربّ! اے ہمارے رب! تو نے ہمیں ایک کام کے لئے کھڑا کیا ہے جس کے کرنے کی کروڑواں اور ار بواں حصہ بھی ہم میں طاقت نہیں، اے ہمارے رب! تو نے اپنے رسول کے ذریعہ ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ اگر تم اپنے غلام سے کوئی ایسا کام لو جو اُس کی طاقت سے باہر ہو تو تم خود اس کے ساتھ مل کر کام کرو ورنہ اُس سے ایسا کام نہ لو جو اس کی طاقت سے باہر ہو، اے ہمارے رب! تو نے جب اپنے بندوں کو جن کی طاقتیں محدود ہیں یہ حکم دیا ہے کہ کسی کے سپر د کوئی ایسا کام نہ کرو جو اُس کی طاقت سے بالا ہو تو اے ہمارے رب! تیری شان اور تیرے فضل اور تیری رحمت سے ہم کب یہ امید کر سکتے ہیں کہ