تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 782 of 862

تذکار مہدی — Page 782

تذکار مهدی ) 782 روایات سید نا محمودی اور وہ خود اور اس کا سارا ٹبر ہماری خدمت کیا کرتا تھا لیکن اب اس کی بیوی کو ہم دو روپے ماہوار دیتے ہیں اور وہ پھر بھی کام سے جی چراتی ہے۔اس پر نواب صاحب کہنے لگے۔حضور آپ تو دو روپیہ دیتے ہیں۔ہم چودہ روپے ماہوار دیتے ہیں اور پھر بھی چوڑھا راضی نہیں۔غرض اس زمانہ میں اور پرانے زمانہ میں بڑا بھاری فرق ہے۔اب بیرونی ممالک میں جانے پر اتنا خرچ ہوتا ہے کہ اسے کوئی فرد آسانی سے برداشت نہیں کر سکتا۔ہاں ایک قوم مل کر کسی کو باہر بھیج سکتی ہے۔فرد چاہے چارسو یا پانچ سوروپے ماہوار تنخواہ پانے والا ہو۔تب بھی ایسا نہیں کرسکتا۔( الفضل 6 رنومبر 1956 ء جلد 45/10 نمبر 260 صفحہ 3) اشتہارات تبلیغ کا بہترین ذریعہ تبلیغ اور منظم تبلیغ میں فرق ہے۔ہمیں اپنے ملک کا پوری طرح جائزہ لینا چاہیے کہ ملک میں کس حد تک تقریروں کے ذریعہ تبلیغ کی ضرورت ہے، کس حد تک لٹریچر کے ذریعہ تبلیغ کی ضرورت ہے۔کون سے گروہ ایسے ہیں جن میں پمفلٹ زیادہ مقبول ہو سکتے ہیں، کون سے گروہ ایسے ہیں جن میں اشتہارات زیادہ مقبول ہو سکتے ہیں اور کون سے گروہ ایسے ہیں جن میں کتابیں زیادہ مقبول ہو سکتی ہیں۔اس وقت نظارت دعوۃ و تبلیغ پمفلٹ کے ذریعہ تبلیغ کرتی ہے لیکن پمفلٹ ایسی چیز ہے۔جس کا بوجھ زیادہ دیر تک نہیں اٹھایا جاسکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں تبلیغ اشتہارات کے ذریعہ ہوتی تھی۔وہ اشتہارات دو چار صفحات پر مشتمل ہوتے تھے اور ان سے ملک میں تہلکہ مچا دیا جاتا تھا۔ان کی کثرت سے اشاعت کی جاتی تھی۔اس زمانہ کے لحاظ سے کثرت کے معنے ایک دو ہزار کی تعداد کے ہوتے تھے۔بعض اوقات دس دس ہزار کی تعداد میں بھی اشتہارات شائع کئے جاتے تھے۔لیکن اب ہماری جماعت بیسیوں گنے زیادہ ہے۔اب اشتہاری پراپیگینڈا یہ ہوگا کہ اشتہارات پچاس پچاس ہزار بلکہ لاکھ لاکھ کی تعداد میں شائع ہوں۔پھر دیکھو کہ یہ اشتہارات کس طرح لوگوں کی توجہ کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔اگر اشتہارات پہلے سال میں بارہ دفعہ شائع ہوتے تھے۔تو اب خواہ انہیں سال میں تین دفعہ کر دیا جائے اور صفحات دو چار پر لے آئیں۔لیکن وہ لاکھ لاکھ دو دو لاکھ کی تعداد میں شائع ہوں تو پتہ لگ جائے گا کہ انہوں نے کس طرح حرکت پیدا کی ہے۔( الفضل 11 جنوری 1952 ء جلد 40/6 نمبر 10 صفحہ 4)