تذکار مہدی — Page 778
تذکار مهدی ) 778 روایات سید نا محمود کسی کا محتاج نہ رہوں۔فرشتے نے اس کی آنکھوں پر ہاتھ پھیرا تو وہ روشن ہو گئیں اور مال دولت بھی مل گیا۔پھر وہی فرشتہ خدا تعالیٰ کے حکم سے اندھے اور گنجے کی آزمائش کو ایک فقیر کے بھیس میں آیا اور گنجے کے پاس جا کر سوال کیا۔گنجے نے تر شروئی سے جواب دیا اور جھڑک دیا اور کہا کہ چل تیرے جیسے بہت فقیر پھرتے ہیں۔فرشتے نے اس کے سر پر ہاتھ پھیر دیا اور پھر وہ گنجے کا گنجا ہی ہو گیا اور سب مال و دولت جاتا رہا اور پھر ویسا ہی تنگ حال ہو گیا پھر وہی فرشتہ فقیر کی شکل میں اندھے کے پاس آیا جواب بڑا دولتمند اور بینا ہو گیا تھا اور سوال کیا اس نے کہا سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی نے دیا ہے اور اس کا مال ہے تم لے لو۔اس پر پھر اللہ تعالیٰ نے اندھے کو اور بھی مال دولت دیا۔نتیجہ :۔پس اے عزیز بچو! تم بھی یادرکھو کہ خدا تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کا شکر کرو اور اس کی قدر کرو اور سوالی کو جھڑ کی نہ دو۔خیرات کرنا اچھی بات ہے اور سوالی کو دینا چاہیئے۔اس سے خدا خوش ہوتا ہے اور نعمت زیادہ کرتا ہے۔(الحکم 13 ستمبر 1898ء جلد 2 نمبر 27-26 صفحہ 11) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر لینا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوئی کے ابتدائی زمانہ کی بات ہے۔میں چھ سات سال کا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک دفعہ سیر کے لئے نکلے۔آپ مسجد مبارک کے سامنے جو چوک ہے۔اس میں پہنچے تو حضرت خلیفہ اسیح اول نے ایک شخص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ دوست حضور کی تصویر لینے کی خاطر یہاں آئے ہیں یہ 1894ء یا 1895ء کی بات ہے۔اس زمانہ میں ابھی کیمرہ کا زیادہ رواج نہیں تھا۔اس شخص نے ایک سٹینڈ کھڑا کیا اور اس کے اوپر گتے کی ایک چیز رکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی فوٹولی۔جب آپ سیر کے لئے آگے تشریف لے گئے تو اس شخص کے متعلق بات شروع ہوئی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بتایا گیا کہ وہ شخص مڈل تک تعلیم رکھتا ہے اور اس نے بڑی محنت کے ساتھ کیمرہ کی ایجاد کی ہے اور یہ کیمرہ جس سے آپ کی فوٹو لی گئی ہے اس کا اپنا ایجاد کر دہ ہے۔اس شخص نے ایجادات کے شوق میں روس تک کا سفر بھی کیا ہے اور متعدد ایجادیں کی