تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 777 of 862

تذکار مہدی — Page 777

تذکار مهدی ) 777 روایات سیّد نا محمود ہورہی ہیں۔تمہارا کیا خیال ہے۔میں نے کہا میں تو اس کا قائل نہیں آپ نے فرمایا اللہ کا شکر ہے کہ ہم ایک سے دو ہو گئے۔میں ساری رات سویا نہیں۔میرے دل پر ایک بوجھ سا تھا کہ کوئی میرا ہم خیال نہیں۔اب تمہاری بات سے یہ خیال معلوم ہوا تو میں نے کہا۔اَلْحَمْدُ لِلہ میں ایک نہیں رہا۔بلکہ دو شخص ایسے موجود ہیں جو ہم خیال ہیں۔میں نے ایک مضمون لکھا ہے۔یہ چیز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس لے جاؤ۔میں وہ مضمون حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس لے گیا۔چنانچہ ایک جلسہ ہوا اور عام طور پر لوگوں نے یہی کہا کہ ہائی سکول کو جاری رکھنا فضول ہے۔آخر دنیا میں اور ہائی سکول بھی موجود ہیں۔ہمارے بچے وہاں تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔بعض افراد ایسے بھی تھے۔جنہوں نے یہاں تک کہا کہ ہمیں د مینیات کی بھی کیا ضرورت ہے چنانچہ کوئٹہ کے تحصیلدار نذیر احمد صاحب نے یہی بات کہی لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس بات کی تائید کی کہ ہائی سکول بھی قائم رکھا جائے۔آپ نے فرمایا میرا یہ منشا ہرگز نہیں تھا کہ ہائی سکول کو توڑ دیا جائے اور دینیات کلاس کھولی جائے۔پھر مدرسہ احمدیہ قائم ہوا 1906ء یا 1907 ء کی بات ہے گویا۔مدرسہ احمدیہ کی بنیاد بھی نہایت چھوٹے پیمانہ پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے خود رکھی۔اس کے سال دو سال بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فوت ہو گئے آپ کے فوت ہو جانے کے بعد وہی لوگ جنہوں نے یہ تجویز کی تھی کہ ہائی سکول توڑ کر دینی کلاس کھولی جائے۔انہوں نے یہ تجویز کیا کہ مدرسہ احمدیہ توڑ دیا جائے اور ہائی سکول کو قائم رکھا جائے اور لڑکوں کو وظیفے دے کر کالج کی تعلیم حاصل کرائی جائے۔الفضل 11 اپریل 1961 ، جلد 50/15 نمبر 82 صفحہ 4-3) ایک گنجے اور اندھے کی کہانی ایک گنجا اور ایک اندھا تھا۔خدا کا فرشتہ متشکل ہو کر گنجے کے پاس آیا اور اس سے پوچھا تو کیا چاہتا ہے تو گنجے نے کہا میرے سر کے بال ہو جاویں اور مال دولت ہو جاوے چنانچہ فرشتے نے گنجے کے سر پر ہاتھ پھیرا تو خدا کی قدرت سے اس کے سر پر بال بھی نکل آئے اور مال دولت نوکر چاکر بھی مل گئے۔پھر اندھے کے پاس آیا اور اس سے پوچھا تو کیا چاہتا ہے؟ اندھے نے کہا کہ میری آنکھیں روشن ہو جاویں تو میں ٹکریں کھاتا نہ پھروں اور روپیہ پیسہ مل جاوے تو