تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 759 of 862

تذکار مہدی — Page 759

تذکار مهدی ) 759 روایات سید نا محمود اسے کہا دیکھو اس وقت تمہارے بیٹے کو رشتہ مل رہا ہے اس لئے تم کہتی ہو جب لڑکی راضی ہے تو کسی ولی کی رضامندی کی کیا ضرورت ہے لیکن تمہاری بھی لڑکیاں ہیں اور اگر وہ بیاہی جا چکی ہیں تو ان کی بھی لڑکیاں ہوں گی کیا تم پسند کرتی ہو کہ ان میں سے کوئی لڑکی اسی طرح نکل کر کسی غیر مرد کے ساتھ چلی جائے۔(خطبات محمود جلد 18 صفحہ 175 ، 176 ) حلوہ پر جادو قرآن کریم سے زیادہ دلچسپ کتاب اور کوئی نہیں ہوسکتی مگر اس میں کھیل تماشہ کی کوئی بات نہیں۔پھر بھی کافر یہ کہتے تھے کہ کانوں میں انگلیاں ڈال لو۔خوب شور مچاؤ تا یہ کلام کا نوں میں نہ پڑے۔وہ آنحضرت ﷺ کو ساحر اور قرآن کریم کو سحر کہتے تھے۔یہ دلچسپی کی ہی بات ہے اور اس کا مطلب یہی ہے کہ جو سنے اس پر ضرور اثر ہوتا ہے۔بشرطیکہ اس کے دل میں خدا کا خوف ہو۔ہاں جس کا دل ہی بیمار ہو اس پر کوئی اثر نہیں ہو سکتا جس طرح کوئی کھانا خواہ کس قدر لذیذ اور عمدہ کیوں نہ ہو۔بیمار آدمی کو اس کی طرف رغبت نہیں ہوتی۔پس جن کے دل بیمار نہ ہوں۔ان پر خدا تعالیٰ کے کلام کا اثر ضرور ہوتا ہے اور جن کے دل بیمار نہیں اور جو دل سے مذہب کو سچا سمجھتے ہیں ان کے لئے قرآن کریم سحر کا کام دیتا ہے اور ایسا اثر کرتا ہے کہ گویا جادو ہے جو اپنی طرف کھینچے لئے جا رہا ہے۔اسی وجہ سے مکہ کے لوگ رسول کریم ﷺ کو ساحر اور قرآن کریم کو سحر کہتے تھے اور اسی وجہ سے سب انبیاء کو ساحر کہا گیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی ساحر کہتے تھے۔مجھے یاد ہے ایک دوست نے سنایا کہ فیروز پور کے علاقہ میں ایک مولوی تقریر کر رہا تھا کہ احمدیوں کی کتابیں بالکل نہ پڑھنی چاہئیں اور قادیان میں ہرگز نہ جانا چاہئے اور اس کذاب نے لوگوں کو اپنا ایک من گھڑت واقعہ بھی اپنی بات کی تائید میں سنایا۔اس نے کہا میں ایک دفعہ قادیان گیا۔میرے ساتھ ایک رئیس بھی تھا۔ہم مہمان خانہ میں جا کر ٹھہرے اور کہا کہ مرزا صاحب سے ملنا ہے۔تھوڑی دیر میں مولوی نورالدین صاحب آگئے اور بڑی میٹھی میٹھی باتیں کرنے لگے۔اس کے تھوڑی دیر کے بعد ہمارے لئے ایک شخص حلوہ لایا اور مولوی نورالدین صاحب نے کہا کہ یہ آپ کے لئے تیار کروایا گیا ہے۔میں تو جانتا تھا اس لئے سمجھ گیا کہ اس حلوے پر جادو کیا گیا ہے۔اس لئے اسے ہاتھ تک نہ لگایا۔مگر میرے ساتھی کو۔