تذکار مہدی — Page 738
تذکار مهدی ) 738 روایات سید نامحمودی لئے کہ اس کے گوشت میں کسی مرض سے صحت دینے کی طاقت ہے، صرف جانور اور حلال دیکھ کر اسے نہیں کھانا چاہئے۔ہو سکتا ہے کہ ایک جانور کا گوشت صحت کے لئے مضر نہ ہومگر وہ مثلاً بعض فصلوں یا انسانوں میں بیماری پیدا کرنے والے کیڑوں کو کھا تا ہو تو گوشت کے لحاظ سے اس کا گوشت حلال بھی ہوگا اور طیب بھی مگر پھر بھی بنی نوع انسان کا عام فائدہ دیکھتے ہوئے اس کا گوشت طیب نہ رہے گا کیونکہ اس کے کھانے کی وجہ سے انسان بعض اور فوائد سے محروم رہ جائیں گے۔مجھے بچپن ہی میں یہ سبق سکھایا گیا تھا۔میں بچپن میں ایک دفعہ ایک طوطا شکار کر کے لایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے دیکھ کر کہا محمود ! اس کا گوشت حرام تو نہیں مگر اللہ تعالیٰ نے ہر جانور کھانے کے لئے ہی پیدا نہیں کیا بعض خوبصورت جانور دیکھنے کے لیئے ہیں کہ انہیں دیکھ کر آنکھیں راحت پائیں۔بعض جانوروں کو عمدہ آواز دی ہے کہ ان کی آواز سُن کر کان لذت حاصل کریں۔پس اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہر حس کے لئے نعمتیں پیدا کی ہیں وہ سب کی سب چھین کر زبان ہی کو نہ دے دینی چاہئیں۔دیکھو یہ طوطا کیسا خوبصورت جانور ہے۔درخت پر بیٹھا ہوا دیکھنے والوں کو کیسا بھلا معلوم ہوتا ہوگا۔غرض طیب کے لئے جہاں صحت کے لحاظ سے اچھا ہونا شرط ہے وہاں اس کے کھانے میں یہ بھی شرط ہے کہ اس چیز کے کھانے سے انسان کے دوسرے حواس یا دوسرے بنی نوع انسان یا دوسری مخلوق کا حق نہ مارا جائے۔بلکہ دوسروں کے جذبات کو مد نظر رکھنا بھی ضروری ہے۔( تفسیر کبیر جلد چہارم صفحہ 263) مہمان کی ضرورتوں کا خیال رکھتے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بادشاہ کی جو بلی پر چراغاں کیا۔مگر بادشاہ کی جو بلی پر تو میں بھی کرنے کو تیار ہوں۔سوال تو یہ ہے کہ کیا خلافت جو بلی پر بھی ایسا کرنا جائز ہے؟ ہمیں کئی ہندو ملتے ہیں اور ہاتھ سے سلام کرتے ہیں اور جواب میں ہم بھی اس طرح کر دیتے ہیں مگر مسلمان کو تو اس طرح نہیں کرتے بلکہ اسے تو السَّلَامُ عَلَيْكُمُ کہتے ہیں تو جن چیزوں کی حرمت ذاتی نہیں بلکہ نسبتی ہے بلکہ حرمت ہے ہی نہیں صرف کراہت ہے اسے ہم اپنے لئے تو اختیار نہیں کر سکتے ہاں دوسرے کے لیئے کرنے کو تیار ہیں۔جب ترکی سفیر حسین کا می یہاں آیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک خاص آدمی بھیج کر لاہور سے اس کے