تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 731 of 862

تذکار مہدی — Page 731

تذکار مهدی ) 731 روایات سید نا محمودی اردگرد کا حلقہ زیادہ تر طاعون سے محفوظ رہا لیکن مسجد اقصیٰ کے اردگرد چونکہ کثرت سے ہندو رہتے تھے ان میں طاعون پھوٹی اور ان میں سے اکثر ہلاک ہو گئے اور چونکہ مسئلہ یہ ہے کہ جہاں طاعون پھیلی ہوئی ہو وہاں کے لوگ دوسرے علاقوں میں نہ جائیں اور دوسرے علاقوں کے لوگ طاعون زدہ علاقہ میں نہ آئیں۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں مسجد مبارک میں الگ جمعہ ہوتا رہا اور مسجد اقصیٰ میں الگ۔مسجد اقصیٰ میں وہ لوگ جو اس مسجد کے اردگر درہتے تھے اور وہ لوگ جن کے علاقہ میں طاعون پھیلی ہوئی تھی اکٹھے ہو جاتے تھے اور مسجد مبارک میں وہ لوگ جمع ہو جاتے جو طاعون سے محفوظ تھے۔پس یہ شریعت کا حکم تھا جس کے ماتحت دو جمع ہوتے تھے کسی بندے نے یہ حکم نہیں بنایا تھا لیکن رتن باغ میں جمعہ کی نماز الگ پڑھنا بندوں کی خالص اپنی ایجاد ہے۔(خطبات محمود جلد دوم صفحہ 328-327) فقہی مسائل کا حل بے شک ایک دوسرے سے اختلاف ہوسکتا ہے لیکن اختلاف رائے کے معنی غلطی نہیں ہوتے میں سمجھتا ہوں اور تو اور اگر رسول کریم ﷺ کا زمانہ ہوتا اور کسی بات میں مشورہ طلب کیا جاتا تو بیسیوں دفعہ اختلاف ہوتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ ہم نے دیکھا ہے آپ کوئی مشورہ دیتے تو بعض اوقات اس سے بعض کو اختلاف ہوتا مگر اس کے یہ معنی نہیں تھے کہ آپ غلطی کرتے تھے مگر بسا اوقات ہم نے دیکھا کہ آپ اپنی رائے چھوڑ دیتے اور دوسروں کی قبول کر لیتے۔مجھے خوب یاد ہے کہ ایک مسئلہ کے متعلق آپ نے فرمایا مجھے قرآن سے یہی معلوم ہوتا ہے اس پر مولوی محمد احسن صاحب نے تو کہا ہاں حضور یہی درست ہے اور یہی قرآن سے ثابت ہے لیکن حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے فرمایا پہلے فقہاء نے ایسا نہیں لکھا اس پر آپ نے فرمایا اچھا میں لوگوں کو ابتلاء میں نہیں ڈالنا چاہتا جس طرح پہلے فقہاء نے لکھا ہے اسی طرح سمجھا جائے۔گواب بھی مجھے خیال آتا ہے کہ اگر تحقیقات کریں تو ممکن ہے اس مسئلہ میں بھی پہلے فقہاء میں اختلاف نکل آئے۔تو اختلاف رائے کے یہ معنی نہیں کہ دوسرے کی بات کو غلط قرار دیا جائے۔اختلاف رائے طبعی بات ہے اور اسے نقص قرار دینا اور غلطی سمجھنا بہت بڑا نقص ہے۔( الفضل مورخہ 7 فروری 1930 ء جلد 17 نمبر 62 صفحہ 12 )