تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 701 of 862

تذکار مہدی — Page 701

تذکار مهدی ) بار بار قادیان آؤ 701 روایات سید نا محمودی ایک نصیحت میں یہ کرنا چاہتا ہوں کہ جلسہ سالانہ کے بغیر بھی دوستوں کو قادیان آتے رہنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے جو بار بار قادیان نہیں آتا اس کے ایمان کے متعلق مجھے خطرہ ہے۔ادھر یہاں کی بود و باش کو آپ نے ضروری قرار دیا ہے۔پس احباب کو چاہئیے کہ قادیان کو زندگی میں وطن بنانے اور مرکز مدفن بنانے کی کوشش کریں۔اسی کے ماتحت میں نے ایک تحریک کی ہے کہ مکانات بنوانے کے لئے ایک کمیٹی بنائی جائے جس میں شامل ہونے والوں کے لئے پچیس روپیہ کا ایک حصہ رکھا گیا ہے۔دوست اس کمیٹی میں شریک ہوں حصہ ڈالیں اور یہاں مکان بنوائیں۔( بعض اہم اور ضروری امور، انوار العلوم جلد 12 صفحہ 581-580) قصہ ایک خطیب کا بہت لوگوں کے نزدیک کسی مقرر کا کمال یہ ہوتا ہے کہ جس کا خلاصہ وہ ان الفاظ میں بیان کیا کرتے ہیں کہ فلاں شخص بڑا صاحب کمال ہے کہ اس نے اتنی دیر تک تقریر کی لیکن وہ اس کی تقریر کی طرف توجہ نہیں کریں گے خواہ وہ اتنے عرصہ میں بکواس ہی کرتا رہا ہو یا اس نے اس عرصہ میں قرآن کریم کے معارف کے دریا بہا دیئے ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک خطیب کا ذکر سناتے تھے کہ وہ لیکچر کے لئے کھڑا ہوا اس کا مضمون رقت والا تھا ایک شخص آیا اور کھڑا ہو گیا اس کے ہاتھ میں تنگڑی ( زمینداروں کا وہ سہ شاخہ آلہ جس سے وہ بھوسہ وغیرہ درست کرتے ہیں ) تھی جتنے حاضرین تھے ان پر تو اس تقریر کا کچھ اثر نہ ہوا لیکن وہ زمیندار تھوڑی ہی دیر بعد رونے لگ گیا۔واعظ کی جو شامت آئی اور اس کے دل میں ریاء پیدا ہوئی تو اس نے خیال کیا کہ یہ میرے وعظ سے متاثر ہوا ہے۔اس نے لوگوں کو مخاطب کر کے کہا کہ دیکھو انسانوں کے قلوب بھی کئی قسم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ ہیں جو گھنٹوں سے میرا وعظ سن رہے ہیں لیکن مطلق اثر نہیں ہوا مگر یہ ایک اللہ کا بندہ ہے کہ اس پر فورا اثر ہو گیا ہے اور یہ رو پڑا ہے۔پھر اس نے لوگوں کو بتانے کے لئے اس سے پوچھا میاں کس بات نے تم پر اثر کیا کہ تم رو پڑے اس نے کہا کل اسی طرح میری بھینس کا بچہ اڑا اڑا کے مر گیا تھا جب میں نے آپ کی آواز سنی تو وہ یاد آگیا اور میں رو پڑا یہ سن کر خطیب بہت شرمندہ ہوا۔خطبات محمود جلد 6 صفحہ 137-136 )