تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 687 of 862

تذکار مہدی — Page 687

تذکار مهدی ) 687 روایات سید نا محمود خیال کیا کہ گو آپ امیر آدمی ہیں لیکن ہو سکتا ہے کہ کوئی مصیبت ایسی ہو جس سے آپ کا مال ضائع ہو گیا ہو اور میں روپیہ سے آپ کی مدد کر سکوں تو میں نے یہ تھیلی ساتھ لے لی ہے اور پھر میں نے خیال کیا کہ بیماری وغیرہ انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہے ہو سکتا ہے کہ آپ کے گھر میں کوئی تکلیف ہو تو میں نے بیوی کو بھی ساتھ لے لیا ہے تا کہ وہ خدمت کر سکے۔اس امیر آدمی نے کہا میرے دوست! مجھے اس وقت کسی مدد کی ضرورت نہیں اور کوئی مصیبت اس وقت مجھ پر نہیں آئی بلکہ میں صرف اپنے بیٹے کو سبق سکھانے کے لئے اس وقت آیا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ یہ سچی دوستی ہے اور اس سے بڑھ کر سچی دوستی انسان کو اللہ تعالیٰ سے قائم کرنی چاہئے کہ وہ اپنی جان اور مال اور اپنی ہر چیز کی قربانی کے لئے تیار رہے جس طرح دوست کبھی مانتے ہیں اور کبھی منواتے ہیں اسی طرح انسان کا فرض ہے کہ وہ صدقِ دل کے ساتھ اور شرح صدر کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانیاں کرتا چلا جائے۔اللہ تعالیٰ ہماری کتنی باتیں مانتا ہے رات دن ہم اس کی عطا کردہ نعمتوں سے فائدہ اُٹھاتے ہیں، اُس نے جو چیزیں ہماری راحت اور آرام کے لئے بنائی ہیں ہم ان کو استعمال کرتے ہیں، آخر کس حق کے ماتحت ہم ان چیزوں سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔خدا تعالیٰ ہماری کتنی خواہشوں کو پورا کرتا ہے اور اگر کوئی ایک آدھ دفعہ اپنی خواہش کے خلاف ہو جائے تو کس طرح لوگ اللہ تعالیٰ سے بدظن ہو جاتے ہیں اصل تعلق یہ ہے جو عسر اور یسر دونوں حالتوں میں استوار رہے اور اس میں کوئی فرق نہ آئے۔(اب عمل اور صرف عمل کرنے کا وقت ہے ، انوار العلوم جلد 18 صفحہ 382 تا 384 ) سچے دوست کی پہچان خدا کی رحمتیں ہوں اس شخص پر اس نے عشق کا ایک ایسا نمونہ قائم کیا کہ قیس اور مجنوں کا عشق اگر اس میں کوئی حقیقت تھی بھی اس کے عشق کے مقابل پر مرجھا کر رہ جاتا ہے۔اس حقیقی محبت کے مظاہرہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جہاں محبت ہوتی ہے وہاں دلیلیں نہیں پوچھی جاتیں۔وہاں انسان پہلے اطاعت کا اعلان کرتا ہے پھر یہ سوچتا ہے کہ میں اس حکم پر کس طرح عمل کروں۔یہی کیفیات انبیاء کی ہوتی ہیں۔جب اللہ تعالیٰ کا پہلا کلام اترتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ کی محبت ان کے دلوں میں اتنی ہوتی ہے کہ وہ دلیل بازی نہیں کرتے اور جب خدا کی آواز ان کے کانوں میں پہنچتی ہے۔تو وہ یہ نہیں کہتے کہ اے ہمارے رب کیا تو ہم سے جنسی کر رہا ہے کہاں ہم اور کہاں یہ کام۔