تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 670 of 862

تذکار مہدی — Page 670

تذکار مهدی ) 670 روایات سید نامحمودی کے متعلق تین سال کی شرط لگا دی تھی تا وہ جو پہلے یا دوسرے قدم پر تھک کر رہ جانے والے ہیں وہ پیچھے ہٹ جائیں اور خالص مؤمن باقی رہ جائیں۔ایمان اور اخلاص کے سانس بھی مختلف جائیں۔ایمان ہوتے ہیں۔جیسے کہتے ہیں فلاں اونٹنی دس میل دوڑ سکتی ہے، فلاں اونٹنی ہیں میل اور فلاں سو میل۔ایمان کی بھی دوڑیں ہوتی ہیں اور ایمان کی دوڑ میں وہی جیتتے ہیں جن کیلئے کوئی حد بندی نہ ہو۔ہمیں نہ یک سالہ مؤمن کام دے سکتے ہیں نہ دو سالہ مؤمن بلکہ وہی کام دے سکتے ہیں جو بغیر کسی شرط کے ہمیشہ قربانیوں کیلئے تیار رہنے والے ہوں۔(خطبات محمودجلد 17 صفحہ 516-517) فرشتوں کے ساتھ تعلق پیدا کریں پس اگر تم اپنے مقصد میں کامیاب ہونا چاہتے ہو تو تمہارا فرض ہے کہ تم فرشتوں کو اپنی مدد کے لیے بلا ؤ اور ان سے کام لو۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے خود سنا ہے کہ جب کوئی بادشاہ یا امیر کسی جگہ جاتا ہے تو اس کا اردلی بھی ساتھ جاتا ہے۔اسے اندر جانے کی اجازت طلب نہیں کرنی پڑتی۔مثلاً اگر وائسرائے کسی گورنر کو بلائے تو وہ بلاوے پر جائے گا۔مگر اس کا اردلی گورنر جنرل کے گھر پر بغیر کسی دعوت کے جائے گا۔گورنر کی دعوت میں اس کے محافظ اور خادم شامل ہوں گے۔اس لئے تمہاری حالت کتنی بھی ادنی ہو۔اگر تم فرشتوں سے تعلقات پیدا کر لو تو وہ جہاں بھی جائیں گے تم ان کے ساتھ جاؤ گے۔تم ان کے اردلیوں اور چپڑاسیوں میں شامل ہو جاؤ گے۔اگر وہ لوگوں کے دلوں اور دماغوں میں جائیں گے۔تو تم بھی ان کے ساتھ جاؤ گے۔پس تم اس عظیم الشان طاقت کو سمجھو۔جسے خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے بنایا ہے۔تمہاری قوت روحانیت کے ساتھ وابستہ ہے تم اسے مضبوط بنانے کے لئے فرشتوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ تعلقات پیدا کرو۔تا تمہیں لوگوں کے قلوب تک پہنچ حاصل ہو جائے۔اگر تمہیں لوگوں کے قلوب تک پہنچ حاصل ہو جائے تو سارے پر دے دور ہو جائیں گے اور جہاں خدا تعالیٰ کا نور پہنچے گا تم بھی وہاں پہنچ جاؤ گے۔پس تم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو اور جس شوق سے تم یہاں آئے ہوا سے پورا کرنے کے سامان پیدا کرو۔اس طرح نہ ہو کہ جس طرح کشتی دیکھنے کے لئے کچھ لوگ پہلے آ جاتے ہیں۔تم بھی یہاں آگئے ہو۔تمہارا یہاں آنے کا مقصد وہی ہے جو اَلسَّابِقُونَ الْاَوَّلُونَ کا مقصد ہوتا ہے۔اور سابق کا اصل مقام یہ ہوتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کا مقرب بنے۔پس اپنے پہلے آنے کی لاج رکھتے ہوئے تم اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کا مقرب بناؤ