تذکار مہدی — Page 663
تذکار مهدی ) 663 دنیا کے اکثر جھگڑے بیہودہ ہوتے ہیں روایات سید نا محمودی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے میں نے ایک لطیفہ سنا ہوا ہے جو شاید مقامات حریری یا کسی اور کتاب کا قصہ ہے آپ فرمایا کرتے کہ کوئی مہمان کسی جگہ نہانے کے لئے گیا حمام کے مالک نے مختلف غلاموں کو خدمت کے لئے مقرر کیا ہوا تھا اتفاق ایسا ہوا کہ اس وقت مالک موجود نہ تھا جب وہ نہانے کے لئے حمام میں داخل ہوا تو تمام غلام اسے آ کر چمٹ گئے اور چونکہ سر کو آسانی سے ملا جا سکتا ہے اس لئے یکدم سب سر پر آ گرے ، ایک کہے یہ میرا سر ہے، دوسرا کہے یہ میرا سر ہے، اس پر آپس میں لڑائی شروع ہو گئی اور ایک نے دوسرے کے چاقو مار دیا جس سے وہ زخمی ہو گیا شور ہونے پر پولیس آئی اور معاملہ عدالت تک پہنچ گیا عدالت کے سامنے بھی ایک غلام کہے یہ میرا سر تھا، دوسرا کہے میرا سر تھا عدالت نے نہانے والے سے پوچھا تو وہ کہنے لگا حضور یہ تو بے سر تھے ان کی باتوں پر تو مجھے تعجب نہیں تعجب یہ ہے کہ آپ نے بھی سوال کر دیا حالانکہ سر نہ اس کا ہے نہ اُس کا سر تو میرا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ مثال اس لئے دیا۔کرتے تھے کہ دنیا کے جھگڑے بیہودہ ہوتے ہیں میرا کیا اور تیرا کیا۔غلام کا تو کچھ بھی نہیں ہوتا وہ تو جب اپنے آپ کو کہتا ہے کہ میں عبد اللہ ہوں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اب اس کا کچھ نہیں سب کچھ خدا تعالیٰ کا ہے، اس کے بعد میرے تیرے کا سوال ہی کہاں باقی رہ سکتا ہے۔قرآن مجید پڑھ کر دیکھ لو اس میں رسول کریم ﷺ کا نام بھی عبد اللہ رکھا گیا ہے جیسا کہ آتا ہے لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللهِ تو خدا تعالیٰ کا غلام ہوتے ہوئے ہماری کوئی چیز نہیں رہتی بلکہ سب کچھ خدا تعالیٰ کا ہو جاتا ہے اسی لئے قرآن مجید نے بالوضاحت بتایا ہے کہ ہم نے مؤمنوں سے مال و جان لے لی دوست عزیز ، رشتہ دار سب جان کے ماتحت آتے ہیں اور باقی مملوکات مال کے ماتحت آتی ہیں اور یہی دو چیزیں ہوتی ہیں جن کا انسان مالک ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے یہ دونوں چیزیں مؤمنوں سے لے لیں۔جس کا مطلب یہ ہے کہ تم میں یہ جھگڑے نہیں ہونے چاہئیں کہ یہ چیز میری ہے اور وہ اس کی۔تم اپنی منزل مقصود تک پہنچنے کے لئے زور لگاؤ اور چھوڑ دو ان باتوں کو کہ تم کہو فلاں پریذیڈنٹ کیوں بنا فلاں کیوں نہ بنا، فلاں سیکرٹری کیوں ہوا فلاں کیوں نہ ہوا، یا جب تک فلاں شخص امام نہ بنے ہم فلاں کے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتے۔مجھے افسوس ہے کہ کئی دفعہ اس قسم کی شکایات پہنچ جاتی ہیں کہ بعض لوگ کہہ دیتے ہیں ہم