تذکار مہدی — Page 656
تذکار مهدی ) 656 روایات سید نا محمودی مٹھائی لاؤں۔اُس نے خیال کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام میری طرح دیکھتے تو ہیں نہیں۔اس لیے انہیں پتا نہیں لگے گا کہ میں کون ہوں۔چنانچہ وہ اپنی چھوٹی بہن کو ساتھ لے کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے پاس گئی اور ہاتھ پھیلا کر کہنے لگی حضرت صاحب جی! میں بھیجی ہوں مجھے مٹھائی دیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے مٹھائی دے دی۔لیکن بعد میں گھر میں بتایا کہ یہ سمجھتی ہے کہ اُس کی طرح ہمیں بھی نظر نہیں آتا۔اپنی وفات سے کوئی ایک سال پہلے وہ لڑکی میرے پاس ملنے آئی تو میں نے اُسے کہا کیا تمہیں اپنے بچپن کا لطیفہ یاد ہے؟ تو اُس نے کہا ہاں خوب یاد ہے۔کیونکہ اُس کے ماں باپ اور رشتہ دار وغیرہ اُسے وہ لطیفہ ساری عمر یاد دلاتے رہے تھے۔یہی حالت عام لوگوں کی ہے وہ سمجھتے ہیں کہ دنیا میں سارے لوگ ہی اندھے ہیں اور کوئی اُن کے عیب کو نہیں دیکھ رہا۔حالانکہ یہ بالکل غلط بات ہے۔حضرت خدیجہ کی مالی قربانیاں خطبات محمود جلد 18 صفحہ 583 تا 584) رسول کریم ﷺ خود بے شک کسی بڑی جائداد کے مالک نہ تھے لیکن حضرت خدیجہ ایک مالدار عورت تھیں۔انہوں نے نکاح کے بعد تمام مال رسول کریم ﷺ کی نذر کر دیا تھا۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ مکہ کے بڑے بڑے امراء بھی ایسے ہی ہوں گے جیسے گاؤں کے امراء ہوتے ہیں۔لیکن ان کا یہ خیال غلط ہے۔مکہ میں بڑے بڑے مالدار لوگ بھی تھے۔ان کے مالدار ہونے کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ فتح مکہ کے بعد جنگ حنین کے لئے رسول کریم ﷺ نے مکہ کے ایک کا فررئیس سے تمہیں ہزار درہم قرض لئے اور کئی ہزار نیزہ قرض لیا اور اسی شخص سے کئی سو زرہیں قرض لیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی لکھ پتی آدمی تھا اور ہمارے اس زمانہ کے لحاظ سے کروڑ پتی تھا کیونکہ اس زمانہ میں روپے پیسے کی بہت قدر تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سنایا کرتے تھے کہ مجھے ایک بڑھے سکھ نے سنایا کہ اس نے آٹھ آنے میں گائے خریدی تھی اور مجھے بھی اچھی طرح یاد ہے کہ ہمارے بچپن کے زمانہ میں مہینہ بھر کی صفائی کی اُجرت خاکروب کو چار یا آٹھ آنہ دی جاتی تھی اور اب ایک بوری ایک جگہ سے دوسری جگہ رکھوائی جائے تو مزدور اس کی مزدوری آٹھ آنے مانگتے ہیں۔لیکن اُس وقت خاکروب آٹھ آنے خوشی سے لے لیتا تھا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ غلہ اور دوسری کھانے پینے کی