تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 652 of 862

تذکار مہدی — Page 652

تذکار مهدی ) بچوں کو کہانیاں سنانا 652 روایات سید نا محمود گویا والدین کی غفلت کی وجہ سے جماعت کی آئندہ نسل تباہ ہو رہی ہے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جنت تمہاری ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے۔اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ بیوقوف اور جاہل ماؤں کے قدموں میں بھی جنت ہے بلکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ اگر مائیں اپنے بچوں کی صحیح تربیت کریں اور انہیں اسلامی اخلاق سکھائیں تو وہ انہیں جنتی زندگی کا وارث بنا سکتی ہیں لیکن اگر وہ اپنے بچوں پر مناسب دباؤ نہیں ڈالتیں ، وہ ان کی تربیت نہیں کرتیں تو ان کی اگلی نسل جنت سے دور ہو جائے گی۔گویا بچوں کو جنت یا دوزخ میں ڈالنا ماں باپ کے اختیار میں ہے۔پس ماؤں کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کو خدا تعالیٰ کے احکام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام سے باخبر رکھیں ، صحابہ کی فضیلت اُن پر واضح کریں، بزرگوں کا تذکرہ اُن کے سامنے کرتی رہیں۔اور اگر ضرورت سمجھیں تو کہانیوں کے ذریعہ خدا اور رسول کی باتیں ان کے ذہن نشین کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کبھی کبھی ہمیں فرمایا کرتے تھے کہ بیٹھ جاؤ میں تمہیں کہانی سناتا ہوں۔وہ کہانی کیا ہوتی تھی یہی بزرگوں کے واقعات ہوتے تھے جن کا نام کہانی رکھ لیا جاتا تھا اور ہم دلچسپی سے اُسے سنتے تھے بلکہ بعض دفعہ ہم پیچھے پڑ جاتے تھے کہ ابھی کہانی پوری نہیں ہوئی۔غرض اس طرح بھی دینی باتیں سکھائی جاسکتی ہیں۔اگر بچوں کو یہ کہا جائے کہ آؤ تمہیں نماز سکھا ئیں تو وہ اسے سبق سمجھ لیتے ہیں لیکن اگر یوں کہا جائے کہ ایک بزرگ تھے ، وہ نبیوں کے سردار تھے، وہ خدا کی بڑی عبادت کیا کرتے تھے اور پھر بتایا جائے کہ وہ یوں عبادت کرتے تھے تو اس طرح بچوں کو ساری نماز یاد ہو جائے گی اور پھر وہ اسے کہانی کی کہانی سمجھیں گے۔اسی طرح تاریخ اسلامی ، آداب اور اخلاق وغیرہ بچوں کو سکھائے جائیں۔اسی لیے میں نے کتابوں کا ایک کورس مقرر کیا تھا اور جماعت کے علماء کو توجہ دلائی تھی کہ وہ بچوں کے لیے تربیتی مسائل پر مختلف کتب لکھیں۔اس وقت سات آٹھ پروفیسر جامعتہ المبشرین میں ہیں، چار پانچ جامعہ احمدیہ میں ہیں۔یہ گیارہ آدمی اگر ہر چھ ماہ میں ایک کتاب بھی لکھتے تو اڑھائی سال میں پچپن کتابیں لکھ لیتے۔ہائی سکول میں تھیں کے قریب استاد ہیں ، کالج میں ہیں پروفیسر یا لیکچرار ہیں، ساٹھ کے قریب مبلغ ہیں۔گویا ایک سو دس یہ ہیں۔اگر یہ لوگ ایک ایک کتاب فی سال بھی لکھتے تو