تذکار مہدی — Page 624
624 تذکار مهدی ) روایات سید نامحمودی گے اور کھانا بھی لنگر خانے میں لگوا دیتا ہوں۔انہوں نے واپس آکر پھر کام شروع کر دینا۔کچھ دنوں کے بعد پھر آ جانا اور کہنا حضور ! سلام عرض کرنے آیا ہوں جانے کی اجازت چاہتا ہوں۔حضور نے پوچھنا کیا بات ہے؟ کہنا حضور ! لنگر کی روٹی تو مجھ سے نہیں کھائی جاتی بھلا یہ بھی کوئی روٹی ہے آپ مجھے دس روپے روٹی کے لئے دے دیں میں خود انتظام کرلوں گا۔حضرت صاحب نے دس روپے بڑھا کر 55 روپے کر دینے۔چونکہ وہ حضرت صاحب کی طبیعت سے واقف تھے اُنہوں نے اپنے لڑکے کو سکھایا ہوا تھا کہ میں تیرے پیچھے پیچھے ڈنڈا لے کر بھاگوں گا اور تو شور مچاتے ہوئے حضرت صاحب کے کمرے میں گھس جانا اور اس اس طرح کہنا۔چنانچہ باپ نے ڈنڈا لے کر اُس کے پیچھے بھا گنا اور اُس نے شور مچاتے اور چیختے چلاتے ہوئے حضرت صاحب کے کمرے میں گھس جانا اور کہنا حضور ! مار دیا مار دیا۔اتنے میں اس کے والد نے آ جانا اور کہنا باہر نکل تیری خبر لیتا ہوں۔حضرت صاحب نے یہ حالت دیکھ کر پوچھنا کیا بات ہے کیوں چھوٹے بچے کو مارتے ہو؟ کہنا حضور ! سات آٹھ دن ہوئے اس کو جوتی لے کر دی تھی وہ اس نے گم کر دی ہے۔اس وقت میں خاموش رہا پھر لے کر دی وہ بھی گم کر دی۔اب مجھ میں طاقت کہاں ہے کہ اس کو اور جوتی لے کر دوں میں اسے سزا دوں گا۔اگر آج سزا نہ دی تو کل پھر جوتی گم کر دے گا۔حضرت صاحب نے فرمانا میاں ! بتاؤ جوتی کتنے کی تھی؟ کہنا حضور ! تین روپے کی۔حضرت صاحب نے فرمانا اچھا یہ تین روپے لے لو اور اس کو کچھ نہ کہو۔اُنہوں نے تین روپے لے کر واپس آ جانا چار دن نہ گزر نے تو پھر لڑکے نے شور مچاتے ہوئے حضرت صاحب کے کمرے میں گھس جانا اور انہوں نے لاٹھی لے کر اُس کے پیچھے پیچھے آنا اور کہنا باہر نکل، اُس دن تو حضرت صاحب کے کہنے پر چھوڑ دیا تھا آج تو تجھے نہیں چھوڑنا۔حضرت صاحب نے پوچھنا کیا بات ہے کیوں اس بچے کو مارتے ہو؟ اُس نے کہنا حضور! اُس دن تو میں نے آپ کے کہنے پر چھوڑ دیا تھا آج اسے نہیں چھوڑ نا آج پھر یہ جوتی گم کر آیا ہے۔حضرت صاحب نے فرمانا اسے نہ مارو جوتی کی قیمت مجھ سے لے لو۔پھر انہوں نے جو رقم بتانی وصول کر کے لے جانی اور کہنا حضور! میں نے اس دفعہ چھوڑ نا تو نہیں تھا لیکن آپ کے فرمانے پر چھوڑ دیتا ہوں۔غرض اس طرح اُنہوں نے کرتے رہنا لیکن کتابت ایسی اچھی کرتے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیشہ اُن ہی سے اپنی کتابیں لکھوایا کرتے تھے اور یہ پسند نہیں کرتے تھے کہ کسی معمولی کا تب سے کتاب لکھوا کر خراب کی جائے کیونکہ اس طرح