تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 612 of 862

تذکار مہدی — Page 612

+612 تذکار مهدی ) روایات سید نا محمودی کیونکہ اس میں بے ادبی کا پہلو تھا مگر اس سے اُس محبت کا اظہار ضرور ہوتا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آنحضرت ﷺ سے تھی۔تو ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کو دیکھا۔آپ ایک آگ میں کھڑے تھے وہی آگ آپ نے ورثہ میں ہمیں دی ہے اور جس احمدی میں وہ آگ نہیں وہ آپ کا صحیح روحانی بیٹا نہیں۔میں کہہ رہا تھا کہ ایک سال کا عرصہ یہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دی گئیں اور کہا گیا کہ فرعونی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا جائے گا۔گالیاں تو آپکو ہمیشہ ہی دی جاتی ہیں مگر یہ آواز قادیان میں سخت گستاخی اور دل آزار طریق پر اُٹھائی گئی۔ہمارے کانوں نے اسے سنا اور ہمارے دلوں کو اس نے زخمی کر دیا۔اور جماعت میں ایک عام جوش اور اس کے نتیجہ میں کام کرنے کا ایک عام ولولہ پیدا ہو گیا مگر میں آپ لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ کیا وہ زخم ابھی تک ہرا ہے یا مندمل ہو رہا ہے ؟ جس کا زخم مندمل ہو رہا ہے وہ سمجھ لے کہ وہ اُس ایمان کو نہیں پاسکا جو کامیابی کے لئے ضروری ہے۔لیکن اگر آج بھی ہرا ہے ، آج بھی تم قربانی کے لئے اُسی طرح تیار ہو ، آج بھی اپنی گردن آستانہ الہی پر اُسی طرح کٹوانے پر آمادہ ہو تو سمجھو کہ تمہارے اندر ایمان موجود ہے۔اچھی طرح یاد رکھو کہ ایمان جنون اور موت ایک ہی چیز ہے سوائے اس کے کہ ڈ نیوی جنون میں عقل ماری جاتی ہے اور صحیح مذہبی جنون میں عقل تیز ہو جاتی ہے پس اپنے دلوں کوٹولو اور دیکھو کہ تمہارے دل کی آگ کی وہ حالت تو نہیں جولو ہے کی ہوتی ہے۔جب اُسے آگ میں ڈالا جاتا ہے، جب اُسے آگ سے نکالا جائے تو سرد ہو جاتا ہے۔خدا کی محبت کی آگ ایسی نہیں کہ اس کے بغیر ایمان قائم رہ سکے۔اس آگ میں مؤمن کا دل ہر وقت پگھلا رہنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے ہماری مدد کر کے بہت سی باتیں دور کر دی ہیں۔اسی مقام قادیان میں گو حقیقتاً اس کی زمین میں نہیں ایک سال ہوا کہ احرار اصحاب فیل کی طرح آئے اور ان کے صدر نے اعلان کیا کہ فرعونی تخت اُلٹ دیا جائے گا لیکن تمہاری کوشش اور محنت کے بغیر۔آج کہاں ہے وہ تخت جس پر بیٹھ کر جماعت کے متعلق یہ الفاظ کہے گئے تھے۔( خطبات محمود جلد 16 صفحہ 655-654) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق صرف وہی تحریریں پیش ہونی چاہئیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذاتی ہوں کیونکہ ان