تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 606 of 862

تذکار مہدی — Page 606

606 تذکار مهدی ) روایات سید نا محمودی اوور سیر جو بعد میں شاید ایس ڈی او ہو گئے تھے ان کے بھائی تھے۔ان میں بھی بڑا اخلاص تھا اور وہ بھی حضرت صاحب کو بہت پیارے تھے اور وہ بھی اپنے اخلاص کی وجہ سے اپنے بھائی کو کہا کرتے تھے کہ کام کچھ نہ کرو، قادیان جا کر بیٹھے رہو، حضرت صاحب سے ملاقات کیا کرو، مجھے کچھ ڈائریاں بھیج دیا کرو، کچھ دعاؤں کے لئے کہتے رہا کرو، اخراجات میں بھیجا کروں گا۔چنانچہ وہ اپنے بھائی کی مدد کرتے رہتے تھے۔محض اسی وجہ سے کہ وہ قادیان میں حضرت صاحب کے پاس بیٹھے ہوئے ہیں۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک وحی جس کے شروع میں الد جی آتا ہے اور جو خاص ایک رکوع کے برابر ہے۔وہ ایسی حالت میں نازل ہوئی جب کہ حضرت صاحب کو درد گردہ کی شکایت تھی اور وہ ( سید فضل شاہ صاحب ) آپ کو دبا رہے تھے۔گویا ان کو یہ خاص فضیلت حاصل تھی کہ ان کی موجودگی میں دباتے ہوئے حضرت صاحب پر وحی نازل ہوئی اور وحی بھی اس طرز کی تھی کہ کلام بعض دفعہ اونچی آواز سے آپ کی زبان پر بھی جاری ہو جاتا تھا۔مجھے یاد ہے ہم چھوٹے بچے ہوتے تھے کہ ہم بے احتیاطی سے اس کمرہ میں چلے گئے جس میں حضرت صاحب لیٹے ہوئے تھے۔آپ نے اوپر چادر ڈالی ہوئی تھی اور سید فضل شاہ صاحب مرحوم آپ کو دبا رہے تھے ان کو محسوس ہوتا تھا کہ وحی ہو رہی ہے۔انہوں نے اشارہ کر کے مجھے کہا یہاں سے چلے جاؤ۔چنانچہ ہم باہر آ گئے۔بعد میں پتہ لگا کہ بڑی لمبی وجی تھی جو نازل ہوئی تھی۔( خطبات محمود جلد سوم صفحہ 673) حضرت منشی اروڑہ صاحب کا عشق میں نے کئی دفعہ اس زمانہ کے ایک عاشق کا بھی قصہ سنایا ہے۔منشی اروڑہ صاحب مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عشاق میں سے تھے۔ان کی عادت تھی کہ وہ کوشش کرتے تھے کہ ہر جمعہ یا اتوار کو قادیان پہنچ جایا کریں۔چنانچہ انہیں جب بھی چھٹی ملتی یہاں آ جاتے اور کوشش کرتے کہ اپنے سفر کا ایک حصہ پیدل طے کریں تا کہ کچھ رقم بچ جائے اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں پیش کر سکیں۔اُن کی تنخواہ اس وقت بہت تھوڑی تھی۔غالباً پندرہ بیس روپے تھی اور اس میں وہ نہ صرف گزارہ کرتے بلکہ سفر خرچ بھی نکالتے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں بھی نذرانہ پیش کرتے۔میں نے