تذکار مہدی — Page 604
تذکار مهدی ) 604 روایات سید نا محمود سے اذان دیتے تھے یہاں تک کہ بعض اوقات ایک نے اذان کہہ دی ہوتی تو دوسرا بھی کہہ دیتا اس طرح کبھی کبھی اس مسجد میں نماز کے لئے تین تین اذانیں ہو جاتیں۔مجھے یاد ہے مولوی عبدالکریم صاحب نے ایک دفعہ اس پر بہت ڈانٹا۔میں نے مولوی عبدالکریم صاحب کو اور حضرت خلیفہ اول کو بھی اذان کہتے دیکھا ہے مگر اب سمجھا جاتا ہے کہ جو دریاں وغیرہ جھاڑنے پر مقرر ہو وہی اذان بھی دے دیا کرے۔اس مسجد مبارک کی اذان تو بعض دفعہ دکاندار بھی نہیں سنتے۔صبح کے وقت جب کہ لوگ ابھی خواب کی حالت میں ہوتے ہیں ایسی اذان کچھ معنی نہیں رکھتی۔میں اگر چہ پاس ہی سوتا ہوں بعض اوقات میں بھی بمشکل جاگتا ہوں۔مجھے خیال آتا ہے کہ اگر قاضی امیر حسین صاحب اس وقت زندہ ہوتے تو ایسے مؤذن کو کتنی لعنتیں ملتیں۔قاضی صاحب میں جوش تھا مگر اپنی غلطی معلوم ہونے پر دب بھی جاتے تھے۔امام موسی رضا کی رہائی ( خطبات محمود جلد سوم صفحہ نمبر 332 تا 333 ) جہاں دل میں اللہ تعالیٰ کے لئے اخلاص پایا جاتا ہو۔وہاں وہ آپ ہی آپ ان لوگوں کی حفاظت کرتا ہے۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سنا ہوا ہے کہ ایک دفعہ غالبًا ہارون الرشید کے زمانہ میں ایک بزرگ جو اہل بیعت میں سے تھے اور جن کا نام موسیٰ رضا تھا۔اس بہانہ سے قید کر دیئے گئے کہ ان کی وجہ سے فتنہ کے پیدا ہونے کا احتمال ہے۔ایک دفعہ آدھی رات کے وقت ایک شخص ان کے پاس قید خانہ میں رہائی کا حکم لے کر پہنچا۔وہ بہت حیران ہوئے کہ میں تو سیاسی قیدی تھا۔پھر اس طرح میری فوری رہائی کس طرح ہو گئی۔وہ بادشاہ سے ملے تو اس سے پوچھا کہ کیا بات ہے کہ آپ نے مجھے اس طرح یکا یک رہا کر دیا۔اس نے کہا کہ وجہ یہ ہوئی کہ میں سو رہا تھا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ کسی نے آکر مجھے جگایا ہے۔خواب میں ہی میری آنکھ کھلی تو پوچھا آپ کون ہیں۔تو معلوم ہوا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔میں نے عرض کیا کہ کیا حکم ہے تو آپ نے فرمایا کہ ہارون الرشید یہ کیا بات ہے کہ تم آرام سے سور ہے ہو اور ہمارا بیٹا قید خانہ میں ہے۔یہ سن کر مجھے پر ایسا رعب طاری ہوا کہ اسی وقت رہائی کے احکام بھجوائے۔انہوں نے کہا کہ اس روز مجھے بھی قید خانہ میں بڑا کرب تھا۔اس سے پہلے مجھے بھی کبھی رہائی کی خواہش پیدا نہ ہوئی تھی۔(خطبات محمود جلد 19 صفحہ 890 تا 89 )