تذکار مہدی — Page 585
تذکار مهدی ) 585 نا روایات سید نا محمود طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مولوی نورالدین کی بڑی تعریف کی ہے۔مگر قرآن اس لئے نہیں اترا تھا کہ ابوبکر کی عزت قائم کی جائے نہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات میں یہ کہیں ذکر آتا ہے کہ ہم نے تجھے اس لئے مبعوث کیا ہے کہ تو نورالدین کی عزت قائم کرے۔ہاں جو سچائی اور حقیقت تھی اس کا آپ نے اظہار کر دیا۔مثلاً آپ نے فرمایا۔چه خوش بودے اگر ہر یک زامت نور دین بودے مگر یہ تو ایک سچائی ہے جو کہنی چاہئے تھی۔جس نے قربانی کی ہو اس کی قربانی کا اظہار نہ کرنا ناشکری ہوتی ہے۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ ایک مریض آیا اور اس نے ذکر کیا کہ مولوی صاحب سے میں نے علاج کروایا تھا جس سے مجھے بڑا فائدہ ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام اس دن بیمار تھے۔مگر جب آپ نے یہ بات سنی تو آپ اسی وقت اٹھ کر بیٹھ گئے اور حضرت اماں جان سے فرمانے لگے کہ اللہ تعالیٰ ہی مولوی صاحب کو تحریک کر کے یہاں لایا ہے اور اب ہزاروں لوگ ان سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔اگر مولوی صاحب یہاں نہ آتے تو ان لوگوں کا کس طرح علاج ہوتا۔پس مولوی صاحب کا وجود بھی خدا تعالیٰ کا ایک بڑا احسان ہے۔پس اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ فرمایا کہ چه خوش بودے اگر ہر یک زامت نور دیں بودے تو آپ اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت کی ناشکری سے بچے مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات کو دیکھ لو آیا کسی الہام میں بھی یہ ذکر آتا ہے کہ اے مسیح موعود میں نے تجھے اس لئے مبعوث کیا ہے کہ تو نورالدین کی عزت قائم کرے یا قرآن میں کوئی آیت ایسی ہے جس میں یہ ذکر آتا ہو کہ اے محمد رسول اللہ میں نے تجھے اس لئے بھیجا کہ تو ابوبکر کی عزت قائم کرے۔بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکڑ کے حق میں جو فقرات کہے ہیں وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مولوی نورالدین صاحب کے حق میں نہیں کہے۔مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ فرمایا کہ لَو كُنتُ مُتَّخِذَا خَلِيلًا غَيْرَ رَبِّي لَا تَخَذْتُ اَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا۔(بخاری جلد 2 باب فضائل اصحاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) یعنی اگر خدا کے سوا کسی اور کو خلیل بنانا جائز ہوتا تو میں ابوبکر کو اپنا خلیل بنا تا لیکن حضرت خلیفہ اول کی نسبت تو