تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 562 of 862

تذکار مہدی — Page 562

تذکار مهدی ) 562 روایات سید نا محمود الفضل 24 نومبر 1938 ء جلد 26 نمبر 1 27 صفحہ 5 اور مذہب نے اسے اور زیادہ رنگ دے دیا ہے۔صبر وتحمل حضرت رسول کریم ﷺ کی فتح اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی فتح اور ان تمام انبیاء کی فتح جن کی تاریخیں محفوظ ہیں اور جن پر ایمان لانا ہمارے فرائض میں داخل ہے۔لم ، بردباری، محبت اور پیار سے ہی ہوئی ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس میں ایک شخص آیا اور آپ کو آتے ہی گالیاں دینے لگ گیا اور جب خوب گالیاں دے چکا اور بیٹھ گیا تو آپ نے فرمایا۔تسلی ہو گئی یا کچھ اور بھی باقی ہے۔اسی طرح ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام لا ہور تشریف لے گئے تھے وہاں راستہ میں ایک شخص نے آپ کو دھکا دے دیا۔لوگ اس کو مارنے لگے مگر آپ نے فرمایا نہیں اسے کچھ نہ کہو۔اس نے تو اخلاص سے ہی دھکا دیا ہے وہ دراصل مدعی نبوت تھا۔آپ نے فرمایا۔اس نے سمجھا ہے کہ ہم ظالم ہیں اور اس کا حق مار رہے ہیں اس لئے اس نے دھکا دے دیا۔پیغمبر اسنگھ جو یہاں آیا کرتے تھے ان کا وہ بھائی تھا وہ سنایا کرتے تھے دیا۔کہ میرا بھائی بعد میں ساری عمر شرمندہ رہا اور کہتا تھا۔مجھ سے سخت غلطی ہوئی کہ میں نے حضرت مرزا صاحب کو دھکا دیا۔تو اخلاقی نمونہ اور محبت کا اثر تو پاگلوں پر بھی ہو جاتا ہے۔صحیح عقل والوں پر کیوں نہ ہوگا۔( خطبات محمود جلد 13 صفحہ 108) دست به کار دل به یار حضرت مسیح موعود علیہ السلام اکثر فرمایا کرتے تھے کہ دست به کار دل بہ یار۔جولوگ دنیاوی کاموں کو چھوڑ کر مصلوں پر ہی بیٹھے رہتے ہیں وہ حقیقی عابد نہیں ہیں کیونکہ وہ خدا کی اکبریت کو چھوڑتے ہیں اور اکبریت کے بغیر خدا کی حقیقی عبادت نہیں ہوسکتی۔پس عابد بننے کے لئے دُنیا کی طرف ضرور نظر کرنی پڑے گی اور جو اس کو چھوڑ دے گا وہ خدا کو کبھی نہیں پاسکے گا۔جو شخص دنیا کو چھوڑتا ہے وہ تقویٰ سے نہیں بلکہ جہالت سے ایسا کرتا ہے۔خدا تعالیٰ ہماری جماعت کو حقیقی توحید کے سمجھنے کی توفیق عطاء کرے اور ہمیں ایسی بصیرت بخشے