تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 535 of 862

تذکار مہدی — Page 535

تذکار مهدی ) 535 و روایات سید نا محمودی ایک دفعہ زلزلہ جو آیا تو اس کے منہ سے بے اختیار رام رام نکل گیا۔میر صاحب نے جب اس سے پوچھا کہ تم تو خدا کے منکر ہو پھر تم نے رام رام کیوں کہا؟ کہنے لگے غلطی ہوگئی یونہی منہ سے نکل گیا۔مگر اصل بات یہ ہے کہ دہریے جہالت پر ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ کو ماننے والے علم پر اس لئے مرتے وقت یا خوف کے وقت دہر یہ یہ کہتا ہے کہ ممکن ہے میں ہی غلطی پر ہوں اور نہ اگر وہ علم پر ہوتا تو اس کی بجائے یہ ہوتا کہ مرتے وقت دہر یہ دوسروں کو کہتا کہ خدا کے وہم کو چھوڑ دو کوئی خدا نہیں مگر اس کے الٹ نظارے نظر آتے ہیں۔پس خدا تعالی کی ہستی کی یہ بہت زبردست دلیل ہے کہ ہر قوم میں یہ خیال پایا جاتا ہے۔( ہستی باری تعالی۔انوار العلوم جلد 6 صفحہ 286) حفظ مراتب کا خیال ہر چیز کا خدا تعالیٰ نے ایک مرتبہ رکھا ہے اور اس مرتبہ کی حدود کے اندر اسے دیکھنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اکثر فرمایا کرتے تھے کہ گر حفظ مراتب نہ کنی زندیقی یہ قول اگر چہ ہے تو کسی اور کا مگر آپ اس کا بہت ذکر فرمایا کرتے تھے اس کا مطلب ہے کہ جب تو ہر چیز کو اس کے دائرہ کے اندر نہیں رکھے گا بڑے کو بڑا اور چھوٹے کو چھوٹا نہیں سمجھے گا تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تو زندیق ہو جائے گا۔پس شہادت کے مختلف دائرے ہیں ہو سکتا ہے ایک شخص ہندو ہو یا عیسائی ہو اور وہ اپنے مال یا جان کی حفاظت میں مارا جائے وہ بھی اس حدیث کے ماتحت شہید سمجھا جائے گا اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ اگر ایک مسلمان اپنے مال و جان کی حفاظت میں مارا جائے تو اسے اللہ تعالیٰ کے حضور اور بھی زیادہ درجہ ملے گا اور اگر ہندو اور عیسائی مارا جائے تو بھی اللہ تعالیٰ اسے اجر سے محروم نہیں رکھے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کی بزدلی کو سخت ناپسند فرماتا ہے۔صحبت کا اثر خطبات محمود جلد 13 صفحہ 371) ایک دفعہ ایک سکھ طالب علم نے جو گورنمنٹ کالج میں پڑھتا تھا اور حضرت مسیح موعود