تذکار مہدی — Page 483
تذکار مهدی ) 483 روایات سید نا محمود نماز کے لئے چلو تو کہے نہیں جاؤں گاشی کہ اس نے کھانا چھوڑ دیا۔اب میر صاحب مرحوم کھانا لے کر بیٹھے ہیں کہ میاں کھا لو بڑی خوشامد کر رہے ہیں مگر وہ یہی کہتا جاتا ہے کہ نہیں میں نہیں کھاؤں گا۔شام کے کھانے کا وقت اس طرح گزرا اور اس نے نہ کھایا۔صبح ہوئی تو پھر آپ نے اسی طرح اس کی خوشامد شروع کی کہ میاں فضل الہی کھانا کھا لو تمہیں اچھے اچھے کپڑے بنوا دیں گے، یہ لے دیں گے، وہ لے دیں گے مگر اس نے ایک نہ مانی اور اپنی ضد پر اڑا رہا اور اس طرح دوسرا وقت بھی فاقہ سے ہی رہا۔تیسرا وقت آیا تو پھر یہی حالت رہی۔بہت منت خوشامد کی مگر اس نے ایک نہ مانی۔نانا جان مرحوم کی طبیعت جو شیلی تو تھی ہی آخر ان کو جلال آ گیا اور انہوں نے سوئی لے کر کہا کہ کھاتا ہے یا نہیں؟ جب اس نے دیکھا کہ آپ مارنے لگے ہیں تو جھٹ کہنے لگا کہ میں کھانا کھا لیتا ہوں۔تین وقت کی منت و سماجت سے تو نہ کھایا مگر جب دیکھا کہ مار پڑنے لگی ہے تو جھٹ کھا لیا اور اس دن سے خوش رہنے لگا۔الیگزنڈرویب کے ذریعہ امریکہ میں تبلیغ ( خطبات محمود جلد 22 صفحہ 133 تا 135 ) حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آخری زمانہ میں مہدی کی علامت یہ ہوگی۔اس وقت سورج مغرب کی طرف سے چڑھے گا۔اسی طرح قرآن کریم میں بھی اس بارہ میں بہت سے اشارے پائے جاتے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اقوام جو مسیح ناصرٹی کو ماننے والی ہیں۔ایک دن عیسائیت سے بیزار ہو کر اسلام کی طرف مائل ہونا شروع کر دیں گی اور پھر واقعات نے بھی ان پیشگوئیوں کو ثابت کر دیا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں امریکہ میں سب سے پہلے ایک انگریز نے اسلام قبول کیا۔الیگزنڈر رسل ویب اس کا نام تھا اور امریکن ایمبسی میں فلپائن میں کام کرتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے انگریزی اشتہارات کی جب یورپ اور امریکہ میں اشاعت ہوئی تو اس کے دل میں اسلام قبول کرنے کی تحریک پیدا ہوئی اور اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے خط و کتابت شروع کر دی۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ مسلمان ہو گیا اور اسلام کی اشاعت کے لئے اس نے اپنی زندگی وقف کر دی۔بعد میں وہ ہندوستان میں بھی آیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اس نے ملنے کی خواہش کی۔مگر مولویوں نے اسے کہا کہ اگر تم مرزا صاحب سے ملے تو مسلمان تمہیں چندہ نہیں دیں گے۔چنانچہ وہ ان کے بہکانے کے نتیجہ میں