تذکار مہدی — Page 479
تذکار مهدی ) 479 روایات سید نا محمود سمجھ لیا کہ ہم بھی دعوی کرتے ہیں اور اس طرح عزت پا جائیں گے۔یا بعض کو ان کے خیالات نے متمثل ہو کر ایسے خواب دکھائے کہ وہ سمجھنے لگے کہ واقعی وہ مامور ہیں۔یہ خواب وہی حیثیت رکھتے ہیں جیسے کہتے ہیں کہ بلی کو چھیچھڑوں کے خواب۔چونکہ ان کے خیالات اس قسم کے ہوتے ہیں اس لئے ان کو خواب بھی ویسے ہی آنے لگتے ہیں۔چراغ الدین جمونی اور ڈاکٹر عبد الحکیم وغیرہ ایسے ہی لوگوں میں سے تھے اور یہ سب اسی زمانہ کی پیداوار ہیں جب جماعت کامیابی کے رستہ پر چل پڑی تھی۔1892ء ، 1893 ء اور 1894ء میں کوئی ایسا مدعی نظر نہیں آتا۔چونکہ یہ وہ زمانہ تھا جب ماریں پڑتی تھیں، بائیکاٹ ہوتے تھے، دنیا کی لعن طعن سہنی پڑتی تھی۔اس لئے کسی کو یہ لالچ اور حرص نہ پیدا ہوتی تھی کہ ہم بھی ایسا دعوی کریں لیکن کامیابی شروع ہوئی تو بعض لالچی طبائع نے اپنے خیالات کے نتیجہ میں آنے والے خوابوں کی بناء پر اور بعض نے جھوٹ ہی ایسے دعوے کرنے شروع کر دیئے۔ایسے ہی ایک شخص کے متعلق ایک دوست نے مجھے ایک واقعہ سنایا جو اس نے خود ان سے بیان کیا تھا۔یہ شخص بھی ان میں سے تھا جو بناوٹ سے دعویٰ نہیں کرتے بلکہ جن کے خیالات متمثل ہو کر الہام کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات پر اشتہار دے دیا کہ جو لوگ سمجھتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات بے موقع ہوئی ہے وہ صحیح نہیں سمجھتے۔مجھے الہام ہوا ہے کہ جماعت کو اس اس طرح ترقی ہونے والی ہے۔حضرت خلیفہ اول نے حُسنِ ظنی سے کام لیتے ہوئے اور یہ سمجھ کر کہ اس شخص نے جھوٹ تو بنایا نہیں وہ الہام بھی شائع کر دیئے۔اس سے اس کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ اب تو میرے الہام خلیفہ وقت نے بھی شائع کر دیئے اس لئے ان کو بہت اہمیت حاصل ہو گئی اور اس نے اپنی علیحدہ پڑی جہانی شروع کر دی اور اس نے خود اس دوست سے جس نے مجھے یہ بات سنائی کہا کہ ایک دفعہ انہی خیالات کی وجہ سے مجھے نماز میں ہنسی آگئی۔میں نماز پڑھ رہا تھا کہ مجھے خیال آیا کہ اس طرح مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوتے ہیں۔اب مجھے بھی تائید و نصرت الہی حاصل ہوگی اور ترقیات حاصل ہوں گی۔میرا گاؤں بھی قادیان کی طرح ترقی کرے گا یہاں بھی لنگر خانہ ہوگا ، انجمن قائم ہوگی، روپیہ آئے گا اور ہر طرف مجھے شہرت حاصل ہو گی۔انہی خیالات میں اسے یہ یاد ہی نہ رہا کہ میں نماز میں کھڑا ہوں اور ہنسی آ گئی۔یہ اس بات کی علامت تھی کہ اسے جو الہام وغیرہ ہوتے تھے وہ دراصل اس کی حرص اور