تذکار مہدی — Page 478
تذکار مهدی ) 478 روایات سید نا محمود یہی قانون خدا تعالیٰ کا روحانی بارش کے متعلق ہے۔جب انبیاء آتے ہیں تو ان کی بعثت کے ساتھ کئی کمزور طبیعت کے لوگ جو یہ خیال کرتے ہیں کہ شاید محض دعویٰ کر دینے سے ہی انسان اپنی بات منوا سکتا اور کامیاب ہو جاتا ہے۔بعض دفعہ دانستہ اور بعض دفعہ نادانستہ طور پر ان مخفی خیالات کے ماتحت اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ وہ بھی خدا تعالیٰ کے مامور اور مرسل ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم کی وفات کے بعد قریب کے زمانہ میں ہی چھ سات مدعیان نبوت پیدا ہو گئے۔جب تک تو آفات و مصائب کا زمانہ تھا اور مشکلات درپیش تھیں اس وقت تک کوئی مدعی نبوت نہ تھا۔جب تک آپ مکہ میں تھے اور یہ نظارہ دکھائی دیتا تھا کہ مسلمانوں کو ماریں پڑ رہی ہیں، بائیکاٹ ہو رہے ہیں، گھر سے بے گھر کئے جاتے ہیں کوئی مدعی نبوت پیدا نہیں ہوا کیونکہ ان حالات میں دماغ میں یہ حسرت ہی پیدا نہیں ہو سکتی تھی کہ ہم بھی ایسے دعوے سے عزت حاصل کریں۔لیکن جب اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت سے فتوحات حاصل ہوئیں ، اسلام کو غلبہ عطا ہوا تو لالچی طبائع نے جھوٹ بنا کر یا اپنے گندے خیالات سے متاثر ہو کر یہ خیال کیا کہ ترقیات کی یہ آسان راہ ہے اور یہ بات ہی دراصل ایک بہت بڑا ثبوت ہوتا ہے اس بات کا کہ یہ مدعی یا تو بناوٹ سے کام لیتے اور جھوٹ بولتے ہیں اور یا اپنے لالچ اور حرص کے خیالات سے متاثر ہوتے ہیں اور انہی خیالات کے زیر اثر ان کو ایسے الہام بھی ہو جاتے ہیں۔تکلیف کے زمانہ میں کسی ایسے مدعی کا نہ ہونا ان کے باطل پر ہونے کا زبردست ثبوت ہے۔مکہ کے زمانہ میں کوئی ایسا مدعی نہ تھا اور کوئی اس زندگی کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہ تھا کہ ماریں کھائے ، گھر سے نکالا جائے وغیرہ وغیرہ۔اس وقت تک تو کسی کو یہ پتہ نہ تھا کہ رسول کریم مدینہ میں جائیں گے، اللہ تعالیٰ کی نصرت حاصل ہوگی اور آپ دشمنوں پر غلبہ پائیں گے۔اس لئے کسی کے دل میں بھی یہ جوش نہ پیدا ہوتا تھا کہ آپ کی مثل بنا جائے۔لیکن جب کامیابیاں شروع ہوئیں تو بعض پاجیوں نے تو خدا تعالیٰ پر جھوٹ بنا کر اور بعض لالچی طبائع نے اپنے دماغی خیالات کے زیر اثر الہام وغیرہ کی بناء پر ایسے دعوے کرنے شروع کر دیئے۔یہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ہوا۔آپ کے زمانہ میں بھی جس وقت تک تکالیف اور دکھوں کا زمانہ تھا کوئی مدعی نبوت پیدا نہیں ہوا لیکن جب کامیابیوں کا دور شروع ہوا تو کئی ایسے مدعی پیدا ہو گئے۔بعض ایسے لوگوں نے جن کے نزدیک دنیوی عزت ہی اصل چیز ہوتی ہے یہ