تذکار مہدی — Page 465
تذکار مهدی ) 465 روایات سید نا محمود جماعت سے خارج کر دیا تھا حالانکہ اس کا وہ فعل نظام سلسلہ کے خلاف نہ تھا بلکہ علی گڑھ کالج کے چند افسروں کے خلاف تھا۔خطبات محمود جلد 21 صفحہ 316-315) مولوی محمد حسین بٹالوی کے ذریعہ تبلیغ " حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایک دوست جو بہت بڑے شاعر تھے۔لغت کی انہوں نے ایک کتاب بھی لکھی ہے جس کی دو تین جلد میں شائع ہو چکی ہیں۔ریاست رام پور ان کو اس کام کے لئے وظیفہ دیا کرتی تھی قادیان آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ملے آپ نے ان سے پوچھا آپ کو ہمارے سلسلے کی طرف کیسے توجہ پیدا ہوئی ؟ انہوں نے بڑی سادگی سے جواب دیا مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب کے ذریعہ سے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرما یا کس طرح ؟ انہوں نے عرض کیا مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا رسالہ ” اشاعۃ السنتہ ہمارے ہاں آیا کرتا تھا میں یہ تو جانتا ہی تھا کہ مولوی محمد حسین صاحب بہت بڑی شہرت رکھنے والے اور سارے ہندوستان میں مشہور ہیں مگر ان کے رسالہ کو دیکھ کر بار بار میرے دل میں خیال آتا کہ اگر ان کے دل میں اسلام کا واقعی درد تھا تو انہیں چاہئے تھا کہ مدر سے جاری کرتے قرآن اور حدیث کے درس کا انتظام کرتے ، لوگوں کو اسلامی احکام پر عمل کرنے کی طرف توجہ دلاتے مگر انہیں یہ کیا ہو گیا ہے کہ سارے کام چھوڑ کر بس ایک بات کی طرف ہی متوجہ ہو گئے ہیں اور دن رات احمدیت کی مخالفت کرتے رہتے ہیں اس میں ضرور کوئی بات ہے۔چنانچہ مجھے ان کی مخالفت سے تحقیق کا خیال پیدا ہوا اور میں نے کسی شخص سے اپنے اس شوق کا اظہار کیا اس نے مجھے درنمین پڑھنے کے لئے دی۔میں نے اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں جب آپ کا کلام دیکھا تو میں نے کہا لو پہلا جھوٹ تو یہیں نکل آیا کہ کہا جاتا تھا مرزا صاحب رسول کریم ہے کی ہتک کرتے ہیں حالانکہ جو عشق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا آپ کے دل میں پایا جاتا ہے اس کی موجودہ زمانہ میں نظیر ہی نہیں ملتی۔اس کے بعد میں نے مزید تحقیق کی اور آخر میں اس نتیجہ پر پہنچ گیا کہ احمدیت سچی ہے۔اسی طرح ہر سال مجھے دس ہیں خطوط ضرور ایسے آ جاتے ہیں جن میں یہ لکھا ہوتا ہے کہ جب ہم نے احمدیت کی مخالفت میں کتابیں پڑھیں تو ہمارے دل میں خیال پیدا ہوا کہ ہم جماعت احمدیہ کی کتابیں بھی پڑھ کر دیکھیں۔چنانچہ ہم نے آپ وو