تذکار مہدی — Page 464
تذکار مهدی ) 464 روایات سید نا محمود فرمایا۔بچے نے کیا بیعت کرنی ہے۔اس کو کیا پتہ کہ احمدیت کیا ہے اور ہم کس غرض کے لئے مبعوث ہوئے ہیں مگر یہ پھر بھی میرے پیچھے پڑے رہے اور مجھے کہتے رہے کہ جا کر کہو اس نے بیعت کرنی ہے۔آخر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مجھے اجازت دی اور فرمایا اسے جا کر گھر میں لے آؤ۔چنانچہ میں انہیں اپنے گھر لے گیا۔جہاں تک مجھے یاد ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس وقت کوئی تصنیف فرما رہے تھے۔آپ نے اس بچے کو دیکھا۔اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور کوئی بات کی جو اس وقت مجھے یاد نہیں اور پھر ہم چلے آئے۔اس کے یہ معنی تھے کہ گویا انہیں گھر میں آنے کا پاسپورٹ مل گیا۔پھر میں بھی بڑا ہوا اور وہ بھی بڑے ہوئے۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دستی بیعت کر لی۔پھر خدا کی قدرت وہ علی گڑھ گئے۔1907 ء میں ایک سٹرائیک میں شریک ہو گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس پر سخت ناراض ہوئے اور آپ نے بدر اور الحکم میں ان کے اخراج کا اعلان کر دیا۔بعد میں ان کے ابا نے انہیں کہا کہ جاؤ اور معافی مانگو۔چنانچہ انہوں نے معافی مانگی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں معاف کر دیا۔(خطبات محمود جلد سوم صفحہ 506 تا 508) حضرت مرزا عزیز احمد صاحب اور علی گڑھ علی گڑھ کالج کے منتظمین کے خلاف ایک مرتبہ لڑکوں نے مظاہرے کیسے اور نعرے لگائے تو ہمارے بھتیجے مرزا عزیز احمد بھی ان سے مل گئے۔وہ اس وقت نوجوان تھے اور طالب علمی کی زندگی تھی۔لڑکوں کو شکایت تھی کہ روٹی اچھی نہیں ملتی۔اس لئے مظاہرے اور ہڑتال کرنے لگے اور مرزا عزیز احمد صاحب بھی ان میں شامل ہو گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس فعل کو اس قدر نا پسند کیا کہ مرزا عزیز احمد صاحب کو جماعت سے خارج کر دیا۔اللہ تعالیٰ مرزا سلطان احمد صاحب کی مغفرت فرمائے۔وہ گو اس وقت غیر احمدی تھے مگر جب سنا کہ مرزا عزیز احمد کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جماعت سے خارج کر دیا ہے تو انہوں نے اپنے لڑکے سے کہا کہ میں تم سے خوش ہو کر تب بولوں گا جب تم پھر بیعت کر کے آؤ گے۔خیر وہ ایک بچپن کا ابتلاء تھا جو جاتا رہا۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو سمجھ دی۔فراست دی اخلاص اور انہوں نے اپنی بہت سی اصلاح کرلی۔تو اس قسم کے افعال سلسلہ کی روایات اور تعلیم کے بالکل خلاف ہیں اور ایک ایسے ہی فعل کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے پوتے کو