تذکار مہدی — Page 456
تذکار مهدی ) 6456 روایات سید نا محمود میں کہتا تھا کہ جس شخص نے بارہ گھنٹے یا چودہ گھنٹے فاقہ کیا وہ اگر پانچ منٹ دیر سے سحری کھاتا ہے تو حرج ہی کیا ہے۔اس بحث کے بعد میں سو گیا۔تو میں نے رویاء میں دیکھا کہ ہم نے تانی لگائی ہوئی ہے ( فلاسفر جولاہا تھا اس لئے خواب بھی اسے اپنے پیشہ کے مطابق ہی آئی ) دونوں طرف میں نے کیلیے گاڑ دیئے ہیں اور تانی کو پہلے ایک کیلے سے باندھا اور پھر میں اسے دوسرے کیلے سے باندھنے کے لئے لے چلا۔جب کیلے کے قریب پہنچا تو دو انگلی ورے سے تانی ختم ہو گئی۔میں بار بار کھینچتا تھا کہ کسی طرح اسے کیلے سے باندھ لوں مگر کامیاب نہ ہو سکا اور میں نے سمجھا کہ میرا سارا سوت مٹی پر گر کر تباہ ہو جائے گا۔چنانچہ میں نے شور مچانا شروع کر دیا کہ میری مدد کے لئے آؤ۔دو انگلیوں کی خاطر میری تانی چلی دو انگلیوں کی خاطر میری تانی چلی اور یہی شور مچاتے مچاتے میری آنکھ کھل گئی۔جب میں جا گا تو میں نے سمجھا کہ اس رویاء کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مجھے مسئلہ سمجھایا ہے کہ دو انگلیوں جتنا فاصلہ رہ جانے سے اگر تانی خراب ہو سکتی ہے تو روزہ میں تو پانچ منٹ کا فاصلہ کہہ رہے ہو۔اس کے ہوتے ہوئے کسی کا روزہ کس طرح قائم تعلق باللہ، انوار العلوم جلد 23 صفحہ 177) رہ سکتا ہے۔روزہ اور تانی مجھے اس کے متعلق ایک واقعہ یاد آیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں کچھ لوگوں میں روزوں کے متعلق بحث ہو رہی تھی کہ کس وقت روزہ رکھنا اور کس وقت افطار کرنا چاہئے۔ایک شخص کا خیال تھا کہ جب ایک شخص خدا تعالیٰ کے لئے سارا دن بھوکا رہتا ہے تو اگر اس نے پو پھٹنے کے بعد کھانا کھا لیا بلکہ اگر رویت آفتاب کے بعد بھی چند گھونٹ پانی پی لیا یا کچھ کھانا کھا لیا تو اس میں کون سا حرج ہے۔یہ کہنے والے کسی زمانہ میں جو لا ہوں کا کام کیا کرتے تھے۔انہوں نے خواب دیکھا کہ تانی کو خشک کرنے کے لئے ایک کیلے کے ساتھ باندھا اور دوسری طرف دوسرے کیلے سے باندھنے گیا لیکن تانی کیلے سے دو انگل کے قریب کم رہ گئی لیکن کیلا کچھ دور تھا وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ہزار کوشش کی کہ کسی طرح تانی کیلے تک پہنچ جائے۔مگر سب بے سود آخر گھبرا کر میں نے رشتہ داروں کو آواز دی کہ دوڑ کر آؤ، دوانگل کی وجہ سے میری تانی خراب ہو جائے گی اس پر آنکھ کھل گئی اور سمجھ آ گئی کہ چند منٹ آگے پیچھے روزہ رکھنے یا افطار کرنے کے متعلق میں جو کچھ بیان کر رہا تھا۔اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کے متعلق آگاہ