تذکار مہدی — Page 443
تذکار مهدی ) کارمهدی 443 روایات سید نا محمود تھا اس لئے حضرت مسیح موعود نے اس کا جنازہ نہیں پڑھا تھا۔میں نے پہلے ہی بتایا ہے کہ شفقت علی الناس تو نبی پر فرض ہو جاتی ہے۔رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک خادم مسجد فوت ہو گیا تو لوگوں نے یوں ہی اسے دفن کر دیا کہ رسول اللہ کو اس کے جنازہ کی کیا خبر کرنی ہے۔جب آپ کو یہ خبر پہنچی تو بڑے ناراض ہوئے کہ کیوں مجھے خبر نہیں دی گئی۔تو جنازہ پڑھنا چونکہ شفقت علی الناس سے تعلق رکھتا ہے۔اگر غیر احمدی کا جنازہ پڑھنا جائز ہوتا تو حضرت صاحب اپنے اس بیٹے کا ضرور جنازہ پڑھتے جس کی نسبت آپ نے فرمایا تھا کہ اس نے کبھی ہماری مخالفت نہیں کی تھی۔بہت سے لوگ اس بات کے گواہ ہیں کہ ابتداء میں جب حضرت صاحب نے دعویٰ کیا ہے اور آپ پر پے در پے بیماری کے دورے ہوئے ہیں تو فضل احمد آپ کی بڑی خدمت کرتا رہتا تھا۔پھر یہاں تک آپ کا فرمانبردار تھا کہ احمد بیگ والی پیشگوئی کے وقت جب حضرت مسیح موعود نے اسے کہا کہ تم اپنی بیوی کو طلاق دے دو کیونکہ وہ ان سے تعلق رکھتی ہے تو اس نے طلاق لکھ کر حضرت صاحب کے پاس بھیج دی کہ اگر وہ آپ کے حکم پر عمل نہ کرے تو آپ اسے یہ طلاق نامہ بھیج دیں۔تو حضرت صاحب سے اس کا تعلق بھی ایسا تعلق تھا کہ بڑے بڑے معاملات میں بھی اطاعت کرتا تھا یہ تو اس کا تعلق تھا۔مگر باوجود اس کے جب وہ فوت ہوتا ہے تو آپ اس کے جنازہ پر نہیں جاتے اور نہ ہی کسی احمدی کو جانے کے لیے فرماتے ہیں۔میاں فضل محمد صاحب ہر سیاں والے ( خطبات محمود جلد چہارم صفحہ 336 تا 337 ) | کل ہی میاں فضل محمد صاحب ہر سیاں والے فوت ہوئے ہیں انہوں نے 1895ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر بیعت کی تھی جس پر اب اکسٹھ سال گزر چکے ہیں۔گویا 1895ء کے بعد انہوں نے اکسٹھ جلسے دیکھے۔ان کے ایک لڑکے نے بتایا کہ والد صاحب کہا کرتے تھے کہ میں نے جس وقت بیعت کی اُس کے قریب زمانہ میں ہی میں نے ایک خواب دیکھا جس میں مجھے اپنی عمر پینتالیس سال بتائی گئی۔میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور رو پڑا اور میں نے کہا حضور ! بیعت کے بعد تو میرا خیال تھا کہ حضور کے الہاموں اور پیشگوئیوں کے مطابق احمدیت کو جو ترقیات نصیب ہونے والی ہیں انہیں دیکھوں گا مگر مجھے تو خواب آئی ہے کہ میری عمر صرف پینتالیس سال ہے۔اس پر حضرت مسیح موعود