تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 442 of 862

تذکار مہدی — Page 442

تذکار مهدی ) غیر احمدی کا جنازہ پڑھنا 442 روایات سید نا محمود اب ہم غیر احمدی کے جنازہ کو لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اس کے متعلق قرآن شریف اور حضرت صاحب کا تعامل کیا بتاتا ہے۔وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ غیر احمدی کا جنازہ پڑھنا جائز ہے ان کو ہم کہتے ہیں کہ اگر یہ جائز بات ہے اور جائز بھی ایسی جو شفقت علی الناس سے تعلق رکھتی ہے تو ضرور ہے کہ حضرت مسیح موعود کا تعامل بھی اس کی تصدیق کرے کیونکہ ایک بات ایسی ہوتی ہے جو جائز ہوتی ہے لیکن لوگوں کے ساتھ شفقت کرنے کا اس میں کوئی پہلو نہیں ہوتا۔مثلا ایک شخص کے لیے لٹھے کی قمیض پہننا جائز ہے اور اگر وہ ململ کی قمیض پہنے تو یہ بھی اس کے لیے جائز ہے لیکن اس میں کسی پر کوئی شفقت نہیں پائی جاتی۔لیکن جنازہ پڑھنا اس قسم کا جائز ہے کہ اس میں سے دوسرے پر شفقت بھی پائی جاتی ہے کیونکہ یہ دوسرے پر رحم کرنا اور اس کے لئے رحم کی دعا مانگنا ہے۔انبیاء تو بڑے رحیم وکریم ہوتے ہیں اللہ تعالی آنحضرت ﷺ کی نسبت فرماتا ہے اِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ (القلم: 5 )۔تو ہر ایک وہ جائز بات جو شفقت علی الناس سے تعلق رکھتی ہے وہ انبیاء کے لیے بہت ضروری ہوتی ہے کیونکہ وہ آتے ہی اس لیے ہیں کہ دنیا سے محبت و پیار اور اُلفت اُٹھ جاتی ہے وہ آکر اسے لوگوں میں پیدا کرتے ہیں۔دشمنوں کو دوست بیگانوں کو لگانے اور پرایوں کو اپنے بناتے ہیں اور یہ انبیاء کے لیے ضروری بات ہوتی ہے۔پس اگر غیر احمدی کا جنازہ پڑھنا جائز ہوتا اور ڈائری لکھنے والے نے آپ کی بات کو ٹھیک اور درست سمجھا ہوتا تو ضرور ہے کہ حضرت مسیح موعود کے تعامل سے بھی یہ بات ثابت ہوتی۔یعنی کبھی غیر احمدی مرے ہوں اور حضرت صاحب ان کا جنازہ پڑھنے کے لیے گئے ہوں۔اچھا یہ تو نہ سہی کہ حضرت صاحب کسی کا جنازہ پڑھنے کے لیے گئے ہوں لیکن بعض جگہیں ایسی بھی ہوتی ہیں کہ وہاں تو ضرور شفقت اور رحمت کو کام میں لانا پڑتا ہے۔آؤ ہم ایسی جگہوں کو بھی دیکھیں کہ حضرت صاحب نے کسی کا جنازہ پڑھا ہے یا نہیں۔ایسے قریبی رشتہ دار باپ بھائی اور بیٹا وغیرہ ہوتے ہیں۔آپ کے بھائی باپ تو آپ کے دعوئی سے پہلے ہی فوت ہو چکے تھے ہاں بیٹا آپ کی زندگی میں فوت ہوا ہے فضل احمد اس کا نام تھا۔اس کی وفات پر مجھے خوب یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام باہر سمن میں ٹہلتے ہوئے فرماتے تھے کہ اس کو ہم سے بہت محبت تھی ، اس نے کبھی ہماری مخالفت نہیں کی تھی، بیماری میں ہماری خدمت کیا کرتا تھا مگر چونکہ وہ غیر احمدی