تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 382 of 862

تذکار مہدی — Page 382

تذکار مهدی ) 382 روایات سید نا محمودی جس کے متعلق یہ کہا جاتا تھا کہ وہ نالائق ہے، نا تجربہ کار ہے، کم علم ہے اور وہ جماعت کو تباہ کر دے گا تا دنیا پر یہ ظاہر کرے کہ یہ خدا کا سلسلہ ہے کسی انسان کا قائم کردہ سلسلہ نہیں۔بے شک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خدا تعالیٰ کے مقرب تھے مگر اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ سلسلہ ان کا بھی نہیں بلکہ میرا تھا اور بے شک حضرت مولوی نورالدین صاحب ایک بہت بڑے عالم تھے مگر ان کا علم بھی میرے فضل کا نتیجہ تھا اور سلسلہ ان کا نہیں بلکہ میرا تھا اور اس کے بعد خدا نے اس انسان کو خلافت کے لئے چنا جس کے متعلق دنیا یہ حقارت سے کہتی تھی کہ وہ نہ ظاہری علوم سے آگاہ ہے نہ باطنی علوم جانتا ہے، نہ اس کی صحت اچھی ہے نہ اسے کوئی رعب اور دبدبہ حاصل ہے اور نہ ہی کسی اور رنگ میں وہ لوگوں میں مشہور ہے اور اس طرح خدا نے ظاہر کر دیا کہ اس سلسلہ کو ترقی دینا میرا کام ہے اور میں اگر چاہوں تو مٹی سے بھی بڑے بڑے کام لے سکتا ہوں۔تو اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ سلسلے خدائی مدد پر چلتے ہیں کسی انسان کی وجہ سے نہیں چلتے اور اگر ہماری جماعت کسی وقت یہ سمجھ لے کہ فلاں شخص کے بیمار ہونے یا چلے جانے یا وفات پا جانے سے سلسلہ کے کام میں خرابی پیدا ہو جائے گی تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اس نے تو کل کو چھوڑ دیا۔جب تک ہماری جماعت میں یہ تو کل رہے گا ممکن ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نئے سے نئے آدمی کام کرنے والے پیدا نہ کرے۔آخر ہماری جماعت میں لوگ بیمار بھی ہوتے ہیں اور مر بھی جاتے ہیں مگر کیا کبھی بھی ہمارے کاموں میں رخنہ پڑا؟ ہم نے تو دیکھا ہے کہ جب بھی ایسا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ فوراً ایسے آدمی کھڑے کر دیتا ہے جو ان کے کام کو سنبھال لیتے ہیں۔حضرت خلیفتہ امیج اول کو علمی لحاظ سے دنیا میں خاص شہرت حاصل تھی۔اسی طرح مولوی سید محمد احسن صاحب بھی بہت مشہور تھے۔مولوی سید سرور شاہ صاحب اور قاضی سیدامیرحسین صاحب بھی بڑے پایہ کے عالم تھے گو باہر ان کی علمی شہرت نہیں تھی مگر حضرت خلیفہ امسیح اول کی وفات کی وجہ سے ایک عالم تو اس طرح ختم ہو گیا اور دوسرا عالم سلسلہ خلافت سے مرتد ہو گیا۔تب وہی لوگ جو دس دن پہلے گمنام زندگی بسر کر رہے تھے یک دم آگے آگئے۔چنانچہ حافظ روشن علی صاحب مرحوم، میر محمد اسحاق صاحب اور مولوی محمد اسماعیل صاحب مرحوم نمایاں ہونے شروع ہو گئے۔ان میں سے ایک کتابوں کے حوالے یادرکھنے کی وجہ سے اور باقی دو اپنے مباحثوں کی وجہ سے جماعت میں اتنے مقبول ہوئے کہ مجھے یاد ہے اُس وقت ہمیشہ جماعتیں یہ لکھا کرتی تھیں کہ اگر حافظ روشن علی صاحب اور میر محمد اسحاق صاحب نہ آئے تو ہمارا کام نہیں چلے گا۔حالانکہ چند مہینے پہلے حضرت خلیفہ اول کی زندگی