تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 363 of 862

تذکار مہدی — Page 363

تذکار مهدی ) کارمهدی 363 روایات سید نا محمود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک رؤیا ہے جس میں آپ نے دیکھا کہ آپ ہوا میں تیر رہے ہیں اور فرماتے ہیں عیسی تو پانی پر چلتے تھے اور میں ہوا پر تیر رہا ہوں اور میرے خدا کا فضل ان سے بڑھ کر مجھ پر ہے۔اس رویا کے ماتحت میں سمجھتا ہوں وہ زمانہ آنے والا ہے کہ جس طرح قادیان کے جلسہ پر کبھی یکے سڑکوں کو گھسا دیتے تھے اور پھر موٹریں چل چل کر سڑکوں میں گڑھے ڈال دیتی تھیں اور اب ریل سواریوں کو کھینچ کھینچ کر قادیان لاتی ہے، اسی طرح کسی زمانہ میں جلسہ کے ایام میں تھوڑے تھوڑے وقفہ پر یہ خبریں بھی ملا کریں گی کہ ابھی ابھی فلاں ملک سے اتنے ہوائی جہاز آئے ہیں۔یہ باتیں دنیا کی نظروں میں عجیب ہیں مگر خدا تعالیٰ کی نظر میں عجیب نہیں۔خدا کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ اپنے دین کے لئے مکہ اور مدینہ کے بعد قادیان کو صلى الله مرکز بنانا چاہتا ہے۔مکہ اور مدینہ وہ دو مقامات ہیں جن سے رسول کریم ﷺ کی ذات کا تعلق ہے۔آپ اسلام کے بانی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے آقا اور استاد ہیں۔اس لحاظ سے ان دونوں مقامات کو قادیان پر فضیلت حاصل ہے۔لیکن مکہ اور مدینہ کے بعد جس مقام کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی ہدایت کا مرکز قرار دیا ہے وہ وہی ہے جو رسول کریم ﷺ کے ظل یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ہے اور جو اس وقت تبلیغ دین کا واحد مرکز ہے۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج کل مکہ اور مدینہ جو کسی وقت با برکت مقام ہونے کے علاوہ تبلیغی مرکز بھی تھے آج وہاں کے باشندے اس فرض کو بھلائے ہوئے ہیں۔لیکن یہ حالت ہمیشہ نہیں رہے گی۔مجھے یقین ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ان علاقوں میں احمدیت کو قائم کرے گا تو پھر یہ مقدس مقامات اپنی اصل شان و شوکت کی طرف لوٹائے جائیں گے اور پھر یہ تعلیم اسلام اور تبلیغ کا مرکز بنائے جائیں گے اور جب بھی احمدیوں کی طاقت کا وقت آئے گا اُن کا پہلا فرض ہے کہ ان پاک شہروں کو ان کا کھویا ہوا حق واپس دینے کی تدبیر کریں اور ان کی اصلی شان کو واپس لائیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ان کو دی گئی ہے۔لیکن جب تک وہ دن نہیں آتا اُس وقت تک محض قادیان ہی تبلیغ واشاعت دین کا مرکز ہے۔( خطبات محمود جلد 18 صفحہ 616 تا 618) بیت الدعا میں دعا۔مقام ابراہیم یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات یا سے پہلے کا ذکر۔