تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 361 of 862

تذکار مہدی — Page 361

تذکار مهدی ) 361 روایات سید نا محمود سمجھا جاتا تھا کہ اب جماعت بہت زیادہ پھیل گئی ہے اور پہلے سے کئی گنا طاقتور ہوگئی ہے۔اس کے مقابلہ میں قادیان کے آخری جلسہ میں چالیس ہزار سے اوپر احمدی شامل تھا اور اب بھی کل شام کے کھانے کی جو رپورٹ ملی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چوبیس ہزار مرد وعورت نے کل شام کا کھانا کھایا ہے۔26 کی شام سے 27 کی شام کی حاضری عام طور پر زیادہ ہوا کرتی ہے پس کوئی بعید بات نہیں کہ چھپیں ستائیس ہزار کی حاضری ہو جائے۔اب گجا سات سو گجا اٹھارہ سو اور گجا ستائیس ہزار آدمی کا جلسہ پر جمع ہو جانا پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں سوائے افغانستان کے باہر کے کسی ملک میں احمدی جماعت نہیں تھی مگر اب احمدیت انڈونیشیا میں ، ایران میں ، شام میں ، لبنان میں، مصر میں، سوڈان میں ، ایسے سینیا میں، کینیا میں، یوگنڈا میں، ٹانگا نیکا میں، سیرالیون میں گولڈ کوسٹ میں، نائیجیریا میں ، انگلینڈ میں، سپین میں، ہالینڈ میں ، جرمنی میں ، سوئٹزر لینڈ میں ، یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ میں، نارتھ امریکہ میں، ماریشس میں، ملایا میں، بورنیو میں، سیلون میں، برما میں اور اسی طرح اور کئی علاقوں میں قائم ہے جو شاید اس وقت مجھے یاد بھی نہ ہوں اور بعض جگہ تو اتنی بڑی تعداد میں جماعت پائی جاتی ہے کہ پچاس پچاس ساٹھ ساٹھ ہزار آدمی وہاں احمدی ہو چُکا ہے۔( اسلام نے عورت کو جو بلند مقام بخشا ہے۔انوار العلوم جلد 22 صفحہ 129 تا 130) اے نبی بھو کے اور پریشان حال کو کھانا کھلاؤ مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں کل سات سو آدمی آئے تھے۔اب ایک ایک بلاک میں کئی کئی ہزار بیٹھا ہے۔اس وقت آپ کی زندگی کا آخری سال تھا اور کل سات سو آدمی جلسہ پر آیا اور انتظام اتنا خراب ہوا کہ رات کے تین بجے تک کھانا نہ مل سکا اور آپ کو الہام ہوا کہ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ اَطْعِمُوا الْجَائِعَ وَالْمُعْتَر“ اے نبی بھوکے اور پریشان حال کو کھانا کھلاؤ۔چنانچہ صبح معلوم ہوا کہ مہمان تین بجے رات تک لنگر خانہ کے سامنے کھڑے رہے اور ان کو کھانا نہیں ملا۔پھر آپ نے نئے سرے سے فرمایا کہ دیگیں چڑھاؤ اور ان کو کھانا کھلاؤ۔تو دیکھو سات سو آدمیوں کی یہ حالت ہوئی۔مگر ان سات سو آدمیوں کا یہ حال تھا کہ جب آپ سیر کے لئے نکلے تو سات سو آدمی ساتھ تھا ہجوم بہت تھا۔آنے والے بے چاروں نے کبھی یہ نظارہ تو دیکھا نہ تھا۔باہر تو دوسو آدمی بھی لوگوں کو کسی روحانی بزرگ کے گرد جاتا ہوا نظر نہ آتا تھا۔میلوں میں بے شک