تذکار مہدی — Page 340
تذکار مهدی ) 6340 ☀ روایات سید نا محمود اپنے خرچ پر جاری کیا تھا۔اس وقت تحریک جدید کے ایک سو چالیس لڑکے ہیں مگر وہ اُن سات جیسا کام کر کے بھی نہیں دکھا سکتے۔ہم کل سات لڑکے تھے مگر ہم نے دس روپیہ ماہوار کا ایک نوکر بھی رکھا ہوا تھا ہماری مالی حالت اس وقت جو کچھ تھی اس کا اندازہ اس سے لگ سکتا ہے کہ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف سے تین روپیہ ماہوار وظیفہ ملا کرتا تھا جو قلم دوات کاغذ اور دوسری ضروریات پر میں خرچ کیا کرتا۔مگر ان تین روپوں میں سے بھی میں ایک روپیہ ماہوار اس انجمن پر خرچ کرتا تھا اسی طرح باقی لڑکوں کا حال تھا۔اسی سرمایہ سے آہستہ آہستہ ہم نے رسالہ جاری کیا اور چونکہ رسالہ پر ہم خود محنت کیا کرتے تھے اس لئے تھوڑے ہی عرصہ کے بعد اچھا سرمایہ جمع ہو گیا اور ہمارا کام عمدگی سے چلنے لگا اور ہم نے کام کی سہولت کے لئے دس روپیہ ماہوار پر ایک آدمی رکھنے کا فیصلہ کیا۔(الفضل 21 مارچ 1939ء جلد 27 نمبر 65 صفحہ 7) جلسہ پر آنے والوں کو نصیحت ہم اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں اپنے کرم اپنے فضل سے، اپنے رحم اور عنایت سے ہم میں یہی محبت پیدا کر دی اور ہمیں ہدایت کے اس چشمہ پر پہنچا دیا ہے جو پیاسی اور مضطر دنیا کو سیراب کرنے کے لئے اس زمانہ میں اس نے خود پھاڑا ہے ورنہ جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے دنیا اور اس کے تمام ساز و سامان ہم میں کبھی یہ محبت اور اخلاص پیدا نہیں کر سکتے خدا تعالیٰ کے اس شکر کے بعد میں ان تمام دوستوں کو جو یہاں جمع ہوئے ہیں نصیحت کرتا ہوں کہ ہراس چیز کے ساتھ جو خوشی کا موجب ہوتی ہے تکلیف بھی ہوتی ہے اور جہاں پھول پائے جاتے ہیں وہاں خار بھی ہوتے ہیں۔اس طرح ترقی کے ساتھ حسد بغض اور اقبال کے ساتھ زوال لگا ہوتا ہے۔غرض ہر چیز جو اچھی اور اعلیٰ درجہ کی ہوتی ہے اس کے حاصل کرنے کے راستہ میں کچھ مخالف طاقتیں بھی ہوا کرتی ہیں اور اصل بات یہ ہے کہ کوئی شخص اس وقت تک اس بات کا مستحق ہی نہیں کہ اسے کامیابی حاصل ہو جب تک وہ مصائب اور تکالیف کو برداشت نہ کرے۔یہی وجہ ہے کہ انبیاء کی جماعتوں کو بھی کچھ نہ کچھ تکالیف اٹھانی پڑتی ہیں۔کبھی تو ان پر ایسے ایسے ابتلاء آتے ہیں کہ کمزور اور کچے ایمان والے لوگ مرتد ہو جاتے ہیں اور کبھی چھوٹی چھوٹی تکالیف پیش آتی ہیں مگر بعض کمزور ایمان والے ان سے بھی ٹھو کر کھا جاتے ہیں۔مجھے یاد ہے قادیان