تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 338 of 862

تذکار مہدی — Page 338

تذکار مهدی 338 روایات سید نا محمودی وہ تقریر پڑھتا تو غالباً اچھی پڑھتا۔لیکن حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کی آواز زیادہ بلند نہ تھی اگر چہ آہستہ زور پکڑ کر وہ موثر ہو جایا کرتی تھی۔لیکن وہ اس مقام تک نہیں پہنچتی تھی۔جہاں تقریر کرنے والا جوش کے ساتھ سامعین کو اپنے ساتھ بہا لے جایا کرتا ہے۔یوں تقریر کے لحاظ سے آپ کی آواز میں بڑا اثر تھا اور مضمون سامعین کے ذہن نشین ہو جا تا تھا اور ان کے دل کی گہرائیوں میں اتر جاتا تھا۔لیکن پڑھنے میں یہ طریق کامیاب نہیں ہوتا حضرت خلیفہ اسح الاول نے وہ مضمون تو پڑھا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آپ کے پڑھنے کے طریق پر مطمئن نہ ہوئے۔حضرت خلیفہ اسیح اول کے بعد مرزا یعقوب بیگ صاحب نے مضمون پڑھنا شروع کیا۔ان کی آواز باریک تھی۔دوسرے وہ عربی سے ناواقف تھے اور مضمون میں چونکہ کثرت سے قرآنی آیات تھیں نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے غلط پڑھنا شروع کر دیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔یہ بھی موزوں نہیں۔اس کے بعد شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے پڑھنا شروع کیا۔انہوں نے یہ خیال کیا کہ پہلے دونوں کی آواز میں چونکہ بلندی اور گرج نہیں تھی۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کا طریق بیان پسند نہیں فرمایا۔چنانچہ انہوں نے بڑے زور کے ساتھ گرج کی سی آواز میں پڑھنا شروع کیا۔مگر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی آواز جلدی ہی بیٹھ گئی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ تشریف رکھیں۔غرض مضمون کو آہستگی سے اور ایسے رنگ میں پڑھنا چاہئے کہ سامعین پڑھنے والے کی آواز میں سموئے جائیں۔جب تک سامعین پڑھنے والے کی آواز میں سموئے نہیں جاتے اور جب تک ان کا پڑھنے والے کی آواز کے ساتھ اشتراک پیدا نہیں ہوتا۔اس وقت تک وقت تک تقریر میں زور پیدا کرنا ان کو قریب کرنے کی بجائے دور کرنا ہے۔( مضمون نویسی اور تقریری مقابلوں کے بارہ میں ہدایات ، انوار العلوم جلد 22 صفحہ 44-45 ) انجمن تشحمید الا ذبان میں چاہتا ہوں کہ خدام الاحمدیہ اپنے کام میں اس امر کو بھی مدنظر رکھیں اور نو جوانوں کے ذہنوں کو تیز کریں۔ہم نے بچپن میں جو سب سے پہلی انجمن بنائی تھی۔اس کا نام تفخیذ الا ذہان تھا یعنی ذہنوں کو تیز کرنے کی انجمن۔اس کے نام کا تصور کر کے بھی میرا ایمان تازہ