تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 327 of 862

تذکار مہدی — Page 327

327 تذکار مهدی ) روایات سید نا محمود تگنی قیمت دے کر بھی یہ جگہ لینے کو تیار ہو جائیں گے۔لیکن میں کہتا ہوں کہ اگر کوئی یہ قیمتیں نہ بھی دے۔تو کیا ہم خدا تعالیٰ کی خاطر اتنا بھی نہیں کر سکتے کہ اپنے مکان بھی اس کی خاطر پیش کر دیں۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت میں جب میں قادیان سے باہر جاتا تھا۔اس وقت ریل وغیرہ نہیں ہوتی تھی۔میرے ساتھ کئی دفعہ ایسا واقعہ ہوا بچپن کی وجہ سے میں پہلا واقعہ بھول جاتا تھا۔اس وقت بٹالہ، قادیان میں اگے چلتے تھے۔جب بھی بھی میں بٹالہ سے قادیان جاتا اور قادیان قریب آجاتا تھا تو مجھے محبت کی وجہ سے جوش آجاتا تھا۔میں خیال کرتا تھا کہ اگے والا گھوڑے کو تیز نہیں چلاتا۔یہ شرارت کرتا ہے۔کئی دفعہ ایسا ہوا کہ میں اگہ چھوڑ کر پیدل دوڑ پڑا۔مگر جب گھوڑا آگے بڑھا تو میں پھر اگہ پر بیٹھ گیا اور اپنی غلطی محسوس کی اور ایسا متواتر ہوا۔ایسا ہی اور دوسرے دوست محبت میں کرتے تھے۔جب قادیان ملے گا تو ہم مکانوں کی پرواہ نہیں کریں گے اور مکانوں کو خدا پر چھوڑ دیں گے اور وہاں دوڑ کر پہنچیں گے جو شخص اپنی چیز کو خدا تعالیٰ پر چھوڑ دیتا ہے۔وہ کبھی گھانا نہیں کھاتا۔اس تذبذب اور تردد کا باعث بے ایمانی ہے۔خدا تعالیٰ کی راہ میں جانے والوں کو کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ظاہر میں اگر چه نقصان نظر آتا ہے مگر اصل میں نقصان نہیں ہوتا۔تم لوگ تو بیعت میں داخل ہو۔جو لوگ بیعت میں شامل نہیں تھے۔وہ بھی ایسے خیال دل میں نہ لاتے تھے۔چاچڑاں شریف والے بزرگ جو بہاول پور کے نوابوں کے پیر تھے۔وہ ایک دفعہ مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے۔نواب صاحب بھی وہاں تھے۔اس وقت آتھم کی پیشگوئی کا وقت گزر گیا تھا۔اس مجلس میں یہ باتیں ہونے لگیں کہ پیشگوئی کا وقت گزر گیا ہے۔آتھم نہیں مرا اور مرزا ذلیل ہوا ہے۔پیر صاحب جیسا کہ ان کے خطوط سے معلوم ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لائے ہوئے تھے۔مگر بیعت نہیں کی تھی۔تھوڑی دیر تو آپ خاموش رہے۔پھر آپ نے سر اٹھایا آپ کی آنکھوں میں ایک اضطراب کی حالت تھی۔آپ نے فرمایا کون کہتا ہے کہ آتھم نہیں مرا۔مجھے تو اس کی لاش نظر آ رہی ہے۔پھر انہوں نے نواب صاحب سے مخاطب ہو کر فرمایا۔یہاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کا سوال ہے۔مرزا صاحب کی عزت کا سوال نہیں۔مرزا صاحب (علیہ الصلوۃ والسلام ) نے مقابلہ کیا ہے تو اسلام کی