تذکار مہدی — Page 313
تذکار مهدی ) 313 روایات سیّد نا محمود عملی رنگ میں قائم کر کے بھی دیکھا کرتے تھے اس لئے تم بھی جا کر دیکھو اس حصہ کو الگ کر دو جہاں امام کھڑا ہوتا تھا اور پھر وہاں فرضی دیوار میں قائم کرو اور پھر جو باقی جگہ بچے اس میں جو سطریں ہوں گی ان کا تصور کرو اور اس میں تیسری سطر قائم ہونے پر ہمیں جو حیرت ہوئی کہ کتنی بڑی کامیابی ہے اس کا قیاس کرو اور پھر سوچو کہ خدا تعالیٰ کے فضل جب نازل ہوں۔تو کیا سے کیا کر دیتے ہیں مجھے یاد ہے ہمارا ایک کچا کوٹھا ہوتا تھا اور بچپن میں کبھی کھیلنے کے لئے کبھی ہم اس پر چڑھ جایا کرتے تھے اس پر چڑھنے کے لئے جن سیڑھیوں پر ہمیں چڑھنا پڑتا تھا وہ مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم کے مکان کے پاس سے چڑھتی تھیں اس وقت ہماری تائی صاحبہ جو بعد میں آکر احمدی بھی ہو گئیں مجھے دیکھ کر کہا کرتی تھیں جیو جیا کاں اوہو جی کو کو میں بوجہ اس کے کہ میری والدہ ہندوستانی ہیں اور اس وجہ سے بھی کہ بچپن میں زیادہ علم نہیں ہوتا۔اس پنجابی فقرہ کے معنی نہیں سمجھ سکتا تھا۔چنانچہ ایک دفعہ میں نے اپنی والدہ صاحبہ سے اس کے متعلق پوچھا کہ اس کا کیا مطلب ہے تو انہوں نے فرمایا کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ جیسا کو اہوتا ہے ویسے ہی اس کے بچے ہوتے ہیں کوے سے مراد (نعوذ باللہ) تمہارے ابا ہیں اور کوکو سے مراد تم ہو مگر پھر میں نے وہ زمانہ بھی دیکھا کہ وہی تائی صاحبہ اگر کبھی میں ان کے ہاں جاتا تو بہت عزت سے پیش آتیں میرے لئے گدا بچھاتیں اور احترام سے بیٹھا تیں اور ادب سے متوجہ ہوتیں اور اگر میں کہتا کہ آپ کمزور ہیں۔ضعیف ہیں۔ہمیں نہیں یا کوئی تکلف نہ کریں تو وہ کہتیں کہ آپ تو میرے پیر ہیں گویا وہ زمانہ بھی دیکھا جب میں کو کو تھا اور وہ بھی جب میں پیر بنا اور ان ساری چیزوں کو دیکھ کر تم سمجھ سکتے ہو کہ خدا تعالیٰ جب دنیا کو بدلنا چاہتا ہے تو کس طرح بدل دیتا ہے پس ان انسانوں کو دیکھو اور ان سے فائدہ اُٹھاؤ اور اپنے اندر وہ تبدیلی پیدا کرو کہ جو تمہیں خدا تعالیٰ کا محبوب بنا دے اور تم حزب اللہ میں داخل ہو جاؤ۔الفضل جلد 26 نمبر 85 مورخہ 13 اپریل 1938 ءصفحہ 9) قادیان کی آبادی دریائے بیاس تک ہونے کی پیشگوئی اس مسجد اقصیٰ کو دیکھو کہ اب یہ بھی تنگ ہو رہی ہے کس طرح ایک ایک قدم اٹھا کر ہم نے اس مسجد کو بڑھایا مگر حالت یہ ہے کہ اب پھر یہ مسجد خدا کے فضل سے تنگ ہو رہی ہے۔اس مسجد کے ایک طرف پہلے عورتیں بیٹھا کرتی تھیں ان بیچاریوں نے اس جگہ کے لئے چندہ بھی دیا